حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق ( رہن سہن،تمدن و دیگر حالات، گزشتہ سے پیوستہ)
حافظ آباد کا پانی بہت اچھا اور میٹھا تھا اور یہ پانی اتنا اچھا تھا کہ اس وقت پورے پنجاب میں کہاوت مشہور تھی کہ ” حافظ آباد دا پانی تے بار دا گھیؤ اک برابر اے؛ ۔ انگریزی روپیہ کو ڈبل روپیہ کہتے تھے ۔ بار کا خالص گھی چمڑے کے بنے کپوں میں بھر کر یہاں سے لاہور، امرتسر اور دیگر علاقوں کی طرف جاتا تھا اس وقت ابھی مٹی کا تیل نہیں آیا تھا اس لئے ٹین کا وجود نہ تھا ۔ سردار دیال سنگھ گہولاٹی اور لالہ میاداس چاولہ اس وقت حافظ آباد میں دیسی گھی کے بڑے تاجر تھے اس وقت چونکہ قابل کاشت اراضی کم تھی اور روایتی فصلیں نہ ہونے کے برابر تھیں تو خطہ حافظ آباد کے جاٹ لوگوں کی اکثریت گلہ بان تھی اور ان لوگوں کا دارومدار گھی پر ہوتا تھا اور وہ لوگ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال اور حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتے تھے اس وقت حافظ آباد سے گھی ریڑھیوں میں بھر کر لاہور اور امرتسر جاتا تھا اور وہاں سے واپسی پر حافظ آباد کے دوکان داروں کا سودا جس میں سامان کریانہ، کپڑا اور جستی برتن وغیرہ آتے تھے ۔ اس وقت امیر لوگ اپنے ذاتی تانگے رکھتے تھے ۔ اس وقت لاہور اور امرتسر میں حافظ آباد کے گھی کی بہث مانگ تھی اور تحصیل حافظ آباد سے دساور جانے والے گھی کی مالیت ایک لاکھ روپیہ سالانہ ہوتی تھی ۔ اس وقت جب ان گلہ بانوں کے جانور چراگاہوں میں چر رہے ہوتے تھے تو لاہور، امرتسر، حافظ آباد اور دیگر علاقوں سے گھی کے بڑے تاجروں کے کارندے وہاں ان کے پاس پہنچ جاتے تھے اور کچھ ایڈوانس رقم گلہ بانوں اور چرواہوں کو دے کر اپنا پابند کر لیتے تھے اس وقت کھرل اور بھٹی قوم اکثریتی گلہ بان تھی
اور تحصیل حافظ آباد کی کئی دیگر اقوام بھی چرواہا گیری کے پیشے سے منسلک تھیں ۔گھی کے بعد تحصیل حافظ آباد کی بڑی پیدا وار اون کی تھی اور بار کے علاقے سے بھیڑوں کی اون اکھٹی کر کے دریائے چناب کے ذریعہ ملتان سکھر اور پھر وہاں سے بمبئی جاتی تھی اور حافظ آباد میں چاولہ خاندان اون کا بڑا بیوپاری تھا ۔ گندم یہاں زیادہ تر گجرات اور راولپنڈی کے علاقوں سے آتی تھی اور دالیں فیروزپور اور مالوہ کے علاقہ سے آتی تھیں ۔ اس وقت اچھا گھوڑا یاگھوڑی خاص کر اچھی گھوڑی رکھنا باعث فخر اور امارات کی نشانی سمجھا جاتا تھا ۔عورتوں اور بچوں میں زیور پہننے کا عام رواج تھا بلکہ اکثر مرد حضرات ( ہندو لوگ اکثریتی) بھی کانوں میں مرکیاں اور ہاتھوں میں کڑے ( امیر سونے کے اور عام چاندی کے ) اور گلے میں کنٹھے یا مالا پہنتے تھے ۔ سونا چوبیس روپیہ تولہ تھا لیکن سونا اس وقت بھی امیر لوگوں کے پاس ہی زیادہ ہوتا تھا کیونکہ اس وقت بڑے تاجروں ساہو کاروں کے علاوہ نقد روپیہ کسی کے پاس نہیں ہوتا تھا اور اس وقت چوبیس روپے ایک بڑی بھاری رقم تھی ۔ متوسط طبقے کی عورتوں کی اکثریت زیادہ چاندی کے بنے ہوئے زیورات ہی استعمال کرتی تھیں اور سب قسم کے زیورات کو ملا کر ایک عورت تقریباً سیر ڈیڑھ سیر چاندی پہنتی تھی ۔ ہاتھوں میں گوکھڑو، کہنی تک چوڑا، کہنی پر ناڈیں، بازو پر بازو بند، ہاتھوں کی انگلیوں پر چھاپیں، جنہیں پنج انگلا کہتے تھے اور پاؤں کی انگلیوں پر انگھوٹھے اور چھلے، پاؤں میں پازیب اور کڑیاں یہ سب چاندی کے ہوتے تھے ایک طرف ناک میں نتھ، دوسری طرف لونگ، کانوں میں پانچ چھ چھ بالیاں یا مرکیاں، سر پر چونک، اس کے دونوں طرف پھول پھر سر کے اگلے حصہ میں داونی ٹکا اور توتڑیاں، گلے میں بگنیاں اور یہ یہ سب کچھ پہنے ہوئے عورت ایک عجیب نمونہ دکھائی دیتی تھی ۔ بیاہ شادی کے موقع پر دریائی اور ریشمی بخار کے کپڑے بنوائے جاتے تھے جن پر سچی کناری اور گوٹہ بکثرت لگوایا جاتا تھا اور مذکورہ بالا کپڑے سال ہا سال استعمال کے بعد عورتیں گوٹہ کناری اتار لیتی تھیں اور پھیری والوں کے آگے اسے فروخت کر دیتی تھیں جس سے ان کو آٹھ دس آنہ مل جاتے تھے ۔ ہندو اور سکھ خاندانوں میں سہاگن عورتیں ( جن کے شوہر حیات ہوتے تھے) سفید دوپٹہ سر پر نہیں اوڑھتی تھیں کیونکہ اسے برا تصور کیا جاتا تھا ۔ اس طرح جن کے ماں باپ حیات ہوتے تھے وہ سفید پگڑی نہیں باندھتے تھے ۔ عورتوں اور مردوں میں زیادہ تر رنگ دار دوپٹے اور رنگ دار پگڑیاں استعمال کرنے کا رواج تھا نوعمر آور بڑوں کے لئے پگڑی کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کا تصور ہی نہیں تھا ۔ نائ، کمہار، ترکھان، لوہار، درزی، دھوبی، جوگی، بھروالے،میراثی، فقیر، ، ماچھی اور موچی وغیرہ کام کاج والے اجرتی اور کچھ سیپی کہلاتے تھے جولاہے بھی زمیندار اور کسان سماج کا حصہ تھے زیادہ تر وہ اپنی دستکاری کا نقد معاوضہ لیا کرتے تھے اور بعض مقام پر فصل آنے پر اور وہ کسی کے پابند نہیں ہوتے تھے وہ زمیندار سے کپاس لے کر اس کا سوت کاتتے تھے اور اس سے کھیس، لوئی، دریاں اور کھدر تیار کرتے تھے زمیندار کے لئے تیار کردہ کپڑے کے لئے وہ فصل کی شکل میں اپنا معاوضہ لیتے تھے باقی اپنا مال وہ بازار میں فروخت کر دیتے تھے اور جب ان کے پاس پیسہ زیادہ ہو جاتا تھا تو وہ زمین بھی خرید لیتے تھے ۔اور یہ سب قومیں اس وقت معاشرے کا اہم جز تھیں اور اور ان سے کچھ قوموں کو خدمت کے بدلے میں لاگ دیے جاتے تھے ۔ مسلمانوں کے ہاں مسجد کا میاں ، ہندوؤں میں مندر کا بامن اور سکھوں میں گوردوارہ کا مہنت مذہبی اہمیت کے حامل ہوتے تھے ۔وید حکیم بھی معاشرے کا اہم جز پوتے تھے۔ نہر کے آنے سے پہلے کدھی کے مواضعات میں ( جو کہ دریائے چناب کے کناروں پر واقع ہیں) فصلیں اچھی ہوتی تھیں میدانی علاقے میں زمین سخت تھی اس لئے اس زمین میں زیادہ تر مونگی، موٹھ اور ماش کی فصل ہوتی تھی اور میرا زمین میں جوار، باجرہ، جو چنے اور گندم کی فصلیں ہوتی تھیں ۔ اس وقت موٹھ کے آٹا کی بنی روٹی عام پکائی جاتی تھی جسے مسی روٹی کہا جاتا تھا اس کے علاوہ موٹھ کی دال بھی سردیوں میں بہت بنائی جاتی تھی ۔ اس وقت تقریباً ہر گھر میں بھینس یا گائے ضرور ہوتی تھی اس لئے دودھ دہی اور لسی کا وافر استعمال ہوتا تھا جس کسی کے پاس اپنی بھینس یا گائے نہیں ہوتی تھی اسے پڑوسیوں سے بن مانگے لسی بلکہ ضرورت کے وقت دودھ اور مکھن بھی مل جاتا تھا لسی، دودھ مکھن لینے دینے میں کسی قسم کا عار نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ یہاں کا عام رواج تھا ۔ اڑوس پڑوس کا خاص خیال رکھا جاتا تھا بزرگوں کا عزت اور احترام لازم تھا حافظ آباد شہر میں ذاتی طور پر سب ایک دوسرے کی کئی گزری نسلوں کے واقف تھے اور شہر میں ہندو، مسلمان اور سکھ سب مل جل کر رہتے تھے اور یہاں کا سماجی ڈھانچہ ایک دوسرے سے منسلک تھا ۔ یہاں ہر فرد اپنے معاملات میں آزاد تھآ اور یہاں مذہبی منافرت نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ مسلمان اپنے مسلک کے پکے تھے اور ہندو اور سکھ اپنے اپنے مسلک کے ، یہاں سب مذاہب کی عبادت گاہیں موجود تھیں مساجد، گوردوارہ اور مندر تینوں مذاہب کے موجود تھے انگریز راج آتے ہی یہاں مسیحی مذہب کا بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔ تقسیم سے پہلے یہاں کا کوئی گاؤں بھی یک رنگا نہیں تھا اس علاقہ میں مسلمان اکثریت میں تھے خاص کر شمال مغرب اور جنوب مغرب میں زیادہ تھے مگر ہر قریہ اور گاؤں میں ابادی مخلوط تھی ۔ ہر فرقے کے اپنے سماجی اور مذہبی رسم و رواج تھے جو کسی حد تک ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ مذہب بھی کسی حد تک تہذیبی اختلاف اور اور طرزِ زندگی کی نوعیت مقرر کرتا ہے مگر یہاں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ میل جول اور برتاؤ برابر کا تھا بڑے ہندو اور سکھ خاندانوں کے سیپی سب مسلمان تھے اور خاص کر نائ ان لوگوں کے بااعتماد ہوتے تھے اور بڑے ہندو خاندانوں کے رشتے ناطے کروانا اور ان کے بچوں کے رشتوں کے لئے اچھے گھرانے تلاش کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی تھی ۔ اس وقت سب لوگ ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے تھے ایک دوسرے کی عزت کے پاسدار ہوتے تھے، لوگوں میں خلوصِ،وضعداری اور رواداری تھی بزرگوں کے آگے کوئی بھی جوان آنکھ اٹھا کر بات نہیں کر سکتا تھا اور کسی بھی معاملے میں بزرگوں کا کیا فیصلہ پتھر پر لکیر ہوتا تھا ۔ ہر برادری اور گروہ کے اپنے رسم و رواج تھے لیکن بود و باش اور رسم ورواج خالصتاً پنجابی تھا ۔ رشتہ ناطہ کے متعلق ایک دوسرے کے بارے میں بہت تحقیق کی جاتی تھی ہندو اقوام خاص طور پر کھتری اور اروڑے رشتہ داری کرتے ہوئے اپنی گوتوں اور خونی رشتے داریوں کا خاص خیال رکھتے تھے ۔ ایک ہی گاؤں یا شہر میں آپس میں رشتے داری کم ہی کی جاتی تھی جیسا کہ نائ کے متعلق پہلے ہی لکھ چکا ہوں ۔ قدیم حافظ آباد میں نائی کا کردار بہت اہم ہوتا تھا اس کی سماجی حیثیت چاہے کم تصور کی جاتی تھی مگر اپنے فرائض کے اعتبار سے وہ انتہائی بااعتماد فرد ہوتا تھا بڑے خاندانوں کے رشتے ناطے اور دیکھنے سب اس کے ذمے ہوتے تھے اور وہ جو بھی رشتہ پسند کر آتا تھا وہ خاندان والوں کی بھی پسند بن جاتا تھا ۔ نائی اپنے اوپر خاندانوں کے اعتماد کو کبھی بھی ٹھیس نہیں پہنچنے دیتا تھا بلکہ وہ رشتہ ڈھونڈھتے ہوئے متعلقہ خاندان یا گھرانے کی ہر خوبی اور خامی کو جانچتا تھا اور اگر کہیں دور دراز کے علاقوں میں رشتہ دیکھنے کے لئے سفر کرتا تھا تو وہ کئی دن اپنے متعلقہ علاقے میں خفیہ طور پر قیام پزیر رہتا تھا ۔ ایک گاؤں یا محلے کی بیٹی سارے گاؤں اور محلے کی بیٹی ہوتی تھی ۔ جب کسی کی بیٹی کی شادی ہوتی تھی تو سب اہلیان گاؤں اور محلہ سمجھتے تھے کہ جس بچی کی شادی ہو رہی ہے وہ ان کی اپنی بچی ہے۔ زور شور سے شادی کے متعلق تمام کاموں میں حصہ لیا جاتا تھا اگر بچی والوں کا گھرانہ مالی اعتبار سے کمزور ہوتا تھا تو محلہ کے مالدار لوگ بلا تفریق مذہب کے ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہوا ہے جب کبھی ایسا وقت ہوتا تھا تو محلہ کے بڑے ساہوکار جو کہ ہندو ہوتے تھے تو وہ چپکے سے رات کے وقت اپنے محلے کی لڑکی جس کی شادی ہوتی تھی کہ گھر آتے تھے اور لڑکی کے گھر والوں کو کہتے تھے کہ یہ آپ کی بچی نہیں ہے ہماری بھی ہے ہماری عزت ہے اور چپکے سے ایک معقول رقم ان کے حوالے کر دیتے تھے اور یہ الفاظ کہتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو جاتے تھے کہ ہماری بچی کے سسرال والے اور اس گاؤں یا شہر جہاں یہ لڑکی بیاہ کر جا رہی ہے کہیں یہ نہ کہیں کہ یہ بچی بھوکوں کے پنڈ یا شہر سے آئی ہے اور یاد رہے اس وقت باراتیں دو دو تین دن لڑکی والوں کے ہاں قیام کرتی تھیں اور بارات والوں کی خاطر تواضع تمام اہلیان محلہ مل کر کرتے تھے ۔لڑکی کی شادی کے بعد اس لڑکی کا خاوند سارے گاؤں اور محلہ کا ؛ جوائ ؛ تصور ہوتا تھا اس کی بہت عزت اور احترام ہوتا تھا ۔ کبھی لڑکی کے گھر والے اس کے سسرال جاتے تھے تو ان کی کوشش ہوتی تھی کہ لڑکی کے سسرال والوں کے گھر سے پانی بھی نہ پیا جائے ۔ ہر گاوں اور محلہ کی اپنی چوپال ہوتی تھی جہاں بڑے بزرگ اور سیانے بیٹھا کرتے تھے مسلمانوں اور ہندوؤں کے ہر ڈیرہ میں حقہ ضرور ہوتا تھا سکھ لوگ تمباکو کا استعمال نہیں کرتے تھے ۔ ہر ڈیرہ میں آنے والے اجنبی کو پانی اور روٹی اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی مہیا کر دیا جاتا تھا ۔ اگر کوئی ہندو یا سکھ انتقال کر جاتا تھا تو علاقے کے اڑوس پڑوس کے تمام مسلمان اس کی میت کے ساتھ شمشان گھاٹ جاتے تھے اور اس میت کی آخری رسومات ختم ہونے تک وہاں موجود رہتے تھے ایسے ہی ہی ہندو اور سکھ لوگ مسلمانوں کے ساتھ قبرستان جایا کرتے تھے اور میت کے دفن ہونے تک وہاں ہی موجود رہتے تھے۔ خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو نیوندرا دینے کا رواج تھا شادی بیاہ کے موقع پر ایک دوسرے کو خشک راشن بھی دیا جاتا تھا ۔
عزیز علی شیخ



