حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور صدر محمد ایوب خان کا الیکشن
بی ڈی ممبران کے الیکشن ہوئے اور ان بی ڈی ممبران نے اپنے ووٹوں کے ذریعہ سے صدر پاکستان کا انتخاب کیا تھا ۔ ان انتخابات میں بانی پاکستان کی بہن اور اس وقت کے صدر محمد ایوب خان آپس میں مقابل تھے دو جنوری 1966 ء کو یہ الیکشن ہوئے تھے اور یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے پہلے صدارتی الیکشن تھے ۔ محمد ایوب خان اس وقت کنونشن مسلم لیگ کے امیدوار تھے جبکہ مادر ملت کی حمایت کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز نامی پانچ جماعتی اتحاد کر رہا تھا ۔ اس الیکشن میں بیسک ڈیموکریٹس نے مادر ملت کے مقابلہ پر ایک مخصوص مدت کے لئے ایوب خان کو صدر منتخب کیا تھا اور اس الیکشن میں مشرقی پاکستان اور کراچی کے عوام نے کھل کر مادر ملت کی حمایت کی تھی ۔ اس وقت کے طاقتور، اشرافیہ اور افسر شاہی اور سارے حکومتی وسائل صدر ایوب کے ساتھ تھے اور ریاستی مشینری نے بھر پور طاقت کا استعمال کیا تھا اور اس الیکشن میں بھرپور جھرلو چلا تھا اور اس وقت کے بڑے سیاستدانوں کی اکثریت کنونشن مسلم لیگ میں شامل تھی اور
صدر محمد ایوب خان کے ساتھ تھی ۔ اس وقت حافظ آباد کے تقریباً تمام بڑے سیاسی خاندان اور جغادری سیاستدان کنونشن مسلم لیگ میں شامل تھے اور صدر ایوب خان کے ساتھ تھے اس وقت بھٹے والے خاندان کا کارخانہ ( میاں فضل حق، چوہدری عبد العزیز اور چوہدری یاسین) صدر ایوب خان کے حامیوں کا مرکز اور کنونشن مسلم لیگ کا تحصیل مرکزی دفتر تھا یاد رہے اس وقت حافظ آباد کایہ خاندان مالی اور وسائل کے لحاظ سے بہت مضبوط تھا ۔ اس الیکشن میں صدر ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا لالٹین تھا ۔ اس وقت جوں جوں پولنگ کا دن نزدیک آ رہا تھا حافظ آباد کی انتخابی سیاست میں تیزی پیدا ہو رہی تھی اور حافظ آباد کے عام عوام کی ہمدردیاں مادر ملت کے ساتھ تھیں اور خاص کر متوسط طبقے کے سیاسی کارکن اور سیاسی سوچ رکھنے والے جن میں اس وقت کامریڈ سید اقبال حسین غزنوی، میاں محمد یوسف تہامی، عطا اللہ تارڑ ( فینسی) ایڈووکیٹ، چاچا فیروز فتح آبادی، میر محمد حسین کاشمیری، چاچا عبد الحق، شیخ ظہور حسین، محمد اقبال رندھاوا و دیگران شامل تھے کھل کر مادر ملت کے ساتھ تھے اور اس وقت یہ بڑے حوصلے اور بہادری کی بات تھی کہ وہ پوری حکومتی طاقت اور بڑے خاندانوں کا مقابلہ کر رہے ہوتے تھے اس وقت حافظ آباد کی سڑکوں پر عجیب تماشہ دیکھنے کو ملتا تھا کہ کامریڈ اقبال حسین غزنوی نے ٹین کا کنستر کا بجا کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوتے تھے اور میاں محمد یوسف تہامی بھونپو پر عوام سے خطاب کرتے تھے اور محترمہ فاطمہ جناح کا پیغام عام عوام تک پہنچاتے تھے اور مزے کی بات یہ تھی کہ کامریڈ سید اقبال حسین غزنوی نیشنل عوامی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے جس کے قائد خان عبد الولی خان تھے جو کہ کمیونسٹ مشہور تھے اور میاں محمد یوسف تہامی کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا جو کہ ایک دوسرے کے بالکل الٹ تھے مگر اس وقت پاکستان میں جمہوریت کے لئے شانہ بشانہ چل رہے تھے ۔اس وقت مادر ملت کی حمایت میں کمیٹی باغ میں جو جلسے ہوئے تھے ان میں شاعر انقلاب چاچا فیروز فتح آبادی اپنی جزباتی نظموں سے حافظ آباد کے عوام کا لہو گرما دیتے تھے ان کی پنجابی نظم کا ایک مصرع ” جیڑا ماں دا نئیں اوہ کسی تھا ں دائیں ” بہت مشہور ہوا تھا اس وقت کی انتظامیہ نے کامریڈ سید اقبال حسین غزنوی، میاں محمد یوسف تہامی اور ان کے ساتھیوں کو مادر ملت کا ساتھ چھوڑنے کے لئے بڑی ترغیبات، لالچ اور دھمکیاں دیں مگر وہ اپنے عزم کے پختہ انسان اس بات پر بضد تھے کہ چاہے سارا زمانہ مادر ملت کا ساتھ چھوڑ جائے اور بے شک ہمیں ذلیل کیا جائے، جیل بھیج دیا جائے ہم مادر ملت کا ساتھ کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑیں گے ان دنوں راتوں کو حافظ آباد کی عوام اپنے سروں پر روشن لالٹین اٹھائے اور بلند آواز سے مادر ملت کے حق میں نعرے بازی کرتے حافظ آباد کی سڑکوں اور گلیوں میں نظر آتے تھے اور دوسری طرف حکومتی پارٹی سے وابستہ بڑے خاندانوں کے کارندے اور شڑپانگئے مادر ملت کو گالم گلوج کرتے تھے اور ان کی زبان اور گالیاں غلاظت بھرے الفاظ سے پر ہوتی تھیں ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں ان دنوں چوک فاروق اعظم میں کھڑا ہوا تھا کہ ہمارے محلے کے معزز شخص نے جو بی ڈی ممبر تھے میرے سینے پر لگی پلاسٹک کی لالٹین زبردستی اتار کر وہاں گلاب کا پھول لگا دیا مجھے اس کا یہ عمل بہت برا لگا اور جب وہ شخص تھوڑا سا دور گیا تو میں نے وہ پھول اتار کر گندے پانی کے نالے میں پھینک دیا اور بازار سے پلاسٹک کی بنی بڑی لالٹین خرید کر دوبارا اپنے سینے پر آویزاں کر لی اپنے گھر میں میں اپنی امی اور دادی اماں سے کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ میاں سے دعا کریں کہ مادر ملت جیت جائیں اور ہم سب بہن بھائی کزنز اور محلہ کے بچے مادر ملت کے حق میں جلوس نکالا کرتے تھے ۔ اس وقت حافظ آباد کی عام عوام نے دل و جان سے مادر ملت کی حمایت کی تھی مگر جھرلو زندہ باد اور پھر طاقت جیت گئی تھی جمہوریت ہار گئی تھی مگر حافظ آباد کی تاریخ کے اوراق میں کامریڈ سید اقبال حسین غزنوی، میاں محمد یوسف تہامی، عطا اللہ تارڑ ( فینسی) میر محمد حسین کاشمیری، چاچا عبد الحق، چاچا فیروز فتح آبادی اور دیگران ہمیشہ کے لئے ژندہ ہیں اور امر ہیں
عزیز علی شیخ