حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق ( گلی کپوراں والی)
یہ گلی موجودہ حافظ آباد کی آباد کاری کے ابتدائی دور کی ہے تقسیم کے بعد اس گلی کو حاجی بندو صاحب اور نلکے والی گلی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا/ ہے ۔ 1760ء کے لگ بھگ جب سابقہ حافظ آباد جو کہ موجودہ حافظ آباد کے مشرق جنوب کی طرف تھا اور شمالی حملہ آوروں، سکھوں کی باہمی لڑائیوں اور چھٹوں سکھوں کی لڑائیوں میں مکمل تباہ ہوگیا تھا اور چونکہ اس وقت حافظ آباد پورے پنجاب میں ایک امیر ہندو قصبہ کے طور پر مشہور تھا اس لئے بیرونی اور اندرونی حملہ آور اسے بار بار لوٹتے تھے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ اس شہر یا قصبہ کے ساکنین جہاں جس کو آسرا ملا تھا وہاں ہی چلے گئے تھے اور پھر جب کچھ حالات بہتر ہوئے تھے تو وہ واپس اپنے علاقے میں آئے تھے مگر کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل شہر بیرونی اور اندرونی حملہ آوروں نے دولت اور خزانوں کی تلاش میں کھدائی کرکے ملبے کے بڑے ڈھیر میں بدل دیا تھا اور وہ بھڑ اور ٹبہ کی شکل اختیار کر گیا تھا پھر حافظ آباد کے باسیوں نے پرانے شہر سے ہٹ کر مغرب کی جانب نیا شہر آباد کیا تھا ۔ جب پرانا شہر برباد ہوا تھا تو اس وقت حافظ آباد کے مغل دربار کی طرف سے تعینات کردہ منصب دار لالہ لچھی رام کپور ولد ہیرا نند ولد مرلی دھر ولد روپ چند کی اولاد میں سے چھ کپور بھائی پناہ کے لئے موضع کڑیالہ چلے گئے تھے اور وہاں کے سکھ ہنجراواں کے ساتھ ان کے قدیمی تعلقات تھے اور اس وقت یہ ہنجرا بہت بااثر اور طاقت ور مشہور تھے تو انہوں نے ان کپوروں کو باحفاظت اپنے پاس رکھا تھا اور پھر حالات تھوڑے سے اچھے ہونے پر دیگران حافظ آبادیوں کے ساتھ ( جس میں ہندو،مسلمان اور سکھ شامل تھے) نئے حافظ آباد کی آباد کاری میں آکر شاملِ ہو گئے ۔ ان چھ کپور بھائیوں نے آ کر اپنی یہ گلی آباد کی تھی پہلے اس گلی میں صرف ان چھ کپور بھائیوں کے ہی گھر تھے پھر آہستہ آہستہ ان کی اولاد پھلتی گئی اور وہ پھر اس گلی سے نکلتے گئے اس گلی کے ساتھ ہی موجودہ مین بازار میں ان کپوران کی ابتدائی دوکانیں بھی تھیں یہ گلی مین بازار حافظ آباد کے مرکزی اکبری دروازہ سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر آتی ہے اور جنوب کی جانب واقع قدیم گلی میں باوا بھان شاہ کی سمادھ جہاں اب ٹریفک پولیس کا دفتر ہے نکلتی ہے تقسیم تک اس گلی کو شاہاں دی گلی بھی کہا جاتا تھا یاد رہے اس وقت شاہ کا لفظ امیر ہندو ساہو کاروں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور یہ گلی تقسیم تک حافظ آباد کے بڑے رئیسوں اور زمینداروں کی گنی جاتی تھی ۔ تقسیم کے وقت تک لالہ مہر چند کپور ایڈووکیٹ اس گلی کی نمایاں شخصیت تھے وہ کبھی حافظ آباد بار کے تقسیم سے پہلے صدر بھی رہے تھے
یاد رہے اس وقت حافظ آباد بار کے دس ارکان تھے اور باؤ مہر چند کپور ایڈووکیٹ بہت قابلِ وکیل اور بڑے زمیندار تھے ان کا زیادہ رقبہ موضع جہانیاں اور چھینے میں تھا اس گلی ہی آور اس کے ساتھ ملحقہ گلیوں میں لالہ گوبند سہائے کپور، رائے صاحب لالہ دریائی مل کپور، ایس پی ریٹایرڈ راؤ بہادر رام ناتھ کپور و دیگران کے گھر تھے اس گلی ہی کے ایک رہائشی انسپکٹر پولیس ریٹائرڈ موتی رام کپور کے گھر ہی مہاتما گاندھی 1920ء کے لگ بھگ جب حافظ آباد تشریف لائے تھے قیام کیا تھا اور اس کپوروں والی گلی میں ایک بہت قدیم باولی ( چاہ) تھی اور قریب ہر بڑے گھر کے اندر ان کے مکینوں کے ذاتی پانی کے کنوئیں تھے ۔ حاجی بندو صاحب کی مشہور کریانہ کی دوکان گلی کی نکڑ پر مین بازار میں تھی اور گلی کی نکڑ پر ہی پانی کا نلکہ لگا ہوتا تھا حاجی بندو صاحب بہت نیک نام شخص تھے اس گلی ہی میرے بچپن کے کلاس فیلوز آفتاب عرف اپھی خان اور خلیل کے گھر تھے اور میرے دوست شفیق صاحب مکیریاں والے جن کے والد محترم سیٹھ محمد یوسف کارخانہ دار آور دانہ منڈی کے بڑے آڑھتی تھے ادھر ہی رہتے تھے بچپن میں ہم لوگ اس قدیم گلی میں خوب کھیلا کرتے تھے کیا خوبصورت اور بڑے مکانات تھے
عزیز علی شیخ