preloader

میری یادیں میری باتیں ( میرا حافظ آباد)

حافظ آباد کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی ایک جامع مسجد ہے جو قاری غلام رسول صاحب نے ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں تعمیر کروائی تھی ۔قاری غلام رسول صاحب ایم بی ہائی اسکول نمبر ایک میں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے اور اچھی شخصیت کے حامل انسان تھے ان کے چہرے کی رنگت سفید اور سرخی مائل تھی بہت پیارے انداز میں اور سریلی آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے قاری غلام رسول صاحب بیڈمنٹن کے بہت اچھے کھلاڑی تھے اور اسکول کی مسجد کے ساتھ ہی بیڈمنٹن کی کورٹ بنی ہوئی تھی جہاں میں قاضی حماد، ناصر جواد اور آصف فاروقی بھی کھیلا کرتے تھے اور اس وقت قاری غلام رسول صاحب کے ساتھ جناب ماسٹر شمشیر علی ڈرائنگ ماسٹر صاحب بھی موجود ہوتے تھے ۔مسجد کے ساتھ ہی سڑک پر ایک پھاٹک تھا اور پھاٹک کے ساتھ ہی عبدالخالق کشمیری کا گھر تھا عبدالخالق کشمیری نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور وہ پیپلز پارٹی کا سخت قسم کا جیالا تھا اور پیپلز پارٹی کے مخالفین کو اونچی آواز میں برابھلا کہتا رہتا تھا اور ہم بچہ لوگ اس کو دور سے دیکھ کر ہی رفو چکر ہو جاتے تھے ۔اس کا ایک بیٹا قاسم کشمیری تھا اور وہ لڑائی بھڑائی میں بہت تیز تھا، اس پھاٹک سے ایک سڑک مغرب کی طرف جاتی ہے اور ایک سڑک شہر کی طرف چلی جاتی ہے ۔ مغرب کی طرف جانے والی سڑک پر بالکل سامنے کبھی چاولوں کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہوتا تھا اور یہاں اب جدید عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں یہ کارخانہ تقسیم سے قبل کا تھا اور یہاں ہی اب حافظ آباد کے معروف ڈاکٹر محمد اکرم شیخ صاحب کا ذاتی ہسپتال ہے اور یہاں ہی حافظ آباد کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیت چوہدری ذوالفقار علی تارڑ مرحوم کی رہائش گاہ ہے اور ڈاکٹر محمد اکرم شیخ صاحب کے ہسپتال سے ملحقہ گلی میں ہمارے عالی مرتبت استاد جناب ظہور احمد بھٹی صاحب مرحوم کی رہائش گاہ تھی ۔یہاں سے شمال کی جانب سڑک بجلی محلہ کی طرف جاتی ہے اس سڑک پر بجلی محلہ کی طرف جاتے ہوئے دائیں ہاتھ پر حافظ آباد کے سب سے قدیم ترین تعلیمی ادارے ایم بی ہائی اسکول نمبر ایک کی عمارت اتی ہے ۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور ان شاءاللہ میں تفصیل سے لکھوں گا ۔ اسکول ھذا کے سامنے لوہے کا ایک پھاٹک ہے وہاں سے ایک سڑک پرانے سول ہسپتال کی طرف جاتی ہے اب اس پرانے سول ہسپتال میں جناح پبلک لائبریری اور کچھ دوسرے سرکاری محکموں کے دفاتر ہیں ۔ یہاں سے ہم بجلی محلہ پہنچ جاتے ہیں، بجلی محلہ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ تقسیم سے عرصہ قبل یہاں حافظ آباد شہر کو بجلی سپلائی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر میں ایک پاور پلانٹ لگایا گیا تھا جسے بجلی گھر کہا جاتا تھا یہ 1935 ء کی بات ہے اور اس بجلی گھر یا پاور ہاؤس کے مالک رائے بہادر ڈاکٹر مہاراج کشن کپور اور ان کا خاندان تھا اور موجودہ سابقہ بجلی گھر اور اس کے گردونواح کی ساری زمین ان کی ملکیت تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ بجلی محلہ میں کسی وقت عارضی طور پر کچھ عرصہ کے لئے دانہ منڈی بھی رہی تھی اور بجلی محلہ کی رہائشی آبادی کی اکثریت محنت کش تھی اور عرصہ دراز سے حافظ آباد کی دانہ منڈیوں میں کام کرتی تھی تقسیم تک بجلی محلہ کے گردونواح میں بھی ہندو برادری کی ملکیت چاولوں کے کئی چھوٹے بڑے کارخانے تھے ۔بجلی محلہ کے بالکل سامنے سیم نالہ ہے جس پر اب سڑک بن چکی ہے اور بجلی محلہ کے مشرق کی طرف ریلوے لائن ہے اور اب تو سیم نالہ سے پار بھی اور ریلوے لائن کے آس پاس ہر طرف آبادی ہے ۔ یہ برساتی سیم نالہ گڑھی اعوان کے نزدیک سے شروع ہو کر سیدھا قلعہ صاحب سنگھ کے شمال مغرب کی طرف سے گزرتے ہوئے مرکزی نالہ میں شامل ہو کر ممنا پل سے جنوب مغرب کی طرف چلا جاتا ہے اس نالہ پر بنی سڑک قلعہ صاحب سنگھ کے پاس سے سیدھا پنڈی بھٹیاں والی سڑک سے جا ملتی ہے ۔ ونیکی چوک سے ایک سڑک براستہ گاجر گولہ علی پور چھٹہ کی طرف جاتی ہے اس سڑک پر ہی حافظ آباد ٹیلیفون ایکسچینج کی عمارت ہے ٹیلیفون ایکسچینج کی عمارت کے ساتھ ہی عقب میں کبھی امردوں کا باغ تھا اور اس کے ساتھ ہی مشرقی جانب احسان سوپ نامی صابن بنانے کی فیکٹری تھی اور اس فیکٹری کے مالک چوہدری فتح محمد مرحوم تھے ان کے بڑے بیٹے کا نام احسان تھا جو میرا یار تھا اور چوہدری فتح محمد کبھی صاحب جائیداد اور شہر کے متمول لوگوں میں شمار ہوتے تھے مگر پھر ان کا گھرانہ بھی گردش ایام کا شکار ہو گیا ۔ ٹیلیفون ایکسچینج کی عمارت کے سامنے ہی علی پور روڈ اور ونیکی روڈ کے درمیان ایک قبرستان ہے اسے چھوٹے قبرستان کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا اور یہ بہت قدیمی قبرستان ہے سنا ہوا ہے کہ اسے کبھی درزیاں والا قبرستان بھی کہا جاتا تھا اور مہندوں کا قبرستان بھی کہا جاتا تھا قبرستان کے ساتھ ہی سائیں حسین شاہ کی قبر اور ڈیرہ تھا یاد رہے سائیں حسین شاہ کا تعلق موضع ناجووالی امرتسر سے تھا اور تقسیم سے عرصہ قبل وہ حافظ آباد تشریف لائے تھے اور ڈیرہ سائیں حسین شاہ تقسیم سے قبل حافظ آباد میں مسلمانوں کے اکٹھ کا مرکز تھا اور حافظ آباد کے باہر کے مواضعات سے آنے والے چھوٹے پڑے سب ادھر ہی اپنے گھوڑے باندھتے تھے اور آرام کرتے تھے ۔ عرصہ قدیم سے ہر جمعرات کی رات کو یہاں سماع کی خوبصورت محفل ہوتی تھی جس کو موجودہ سجادہ نشیں باوا فضل صاحب نے جاری رکھا ہے ۔ٹیلیفون ایکسچینج کی عمارت کے ساتھ کبھی بابا کبا جی ( میں بابا جی کا نام بھول رہا ہوں) کا کھوکھا ہوتا تھا اور ایک بوڑھی اماں بھی ان کے ساتھ ہوتی تھیں بابا جی نے سرخ رنگ کا چوغہ پہنا ہوتا تھا اور بڑا پرنور ان کا چہرہ تھا اور وہ دم درود کا کام بھی کرتے تھے جب وہ دم کرتے تھے تو وہ زور سے دم کروانے والے کو پھونک مارتے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک پتلا سا ” کانہ” ہوتا تھا جو وہ دم کروانے کی تکلیف والی جگہ پر پھیرتے جاتے تھے اور اللہ پاک نے ان کو خصوصی علم عطا کیا ہوا تھا اور میں خود اپنے بچپن میں ان کے علم اور عبادت کا عینی شاہد ہوں کیونکہ میرا بچپن میں کان بہنا ٹھیک نہیں ہوتا تھا اور ہماری اماں ماچھن میرے گھر والوں سے چوری مجھے دم کروانے بابا جی کے پاس لائی تھیں اور اللہ نے مجھے آرام دے دیا تھا ۔ علی پور روڈ پر جب کبھی سبزی منڈی بنی تھی تو وہاں کھیت تھے اس سبزی منڈی کے ساتھ ملحقہ کھیتوں میں کبھی ہم فٹبال کھیلا کرتے تھے۔ ادھر ہی کبھی ڈاکٹر میجر غلام نبی صاحب کا سرجیکل ہسپتال تھا میجر ڈاکٹر غلام نبی صاحب 1977 ء کے عام انتخابات میں عوامی جمہوری اتحاد کی طرف سے حافظ آباد کی نشست پر ایم بی اے کے امیدوار تھے مگر اس وقت قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے عوامی جمہوری اتحاد نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے تحت ہونے والے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا اس لئے ڈاکٹر صاحب الیکشن نہیں لڑ سکے تھے سیاسی طور پر ڈاکٹر صاحب کا تعلق جماعت اسلامی کے ساتھ تھا اور وہ اعلیٰ اور نفیس انسان تھے اور وہ ایک کامیاب معالج تھے ۔اس مقام پر مارکیٹ کمیٹی کا دفتر اور ماڈل بازار ہے سبزی منڈی کے ساتھ کولڈ اسٹور تھا اور اس کے ساتھ ہی تقسیم تک حافظ آباد کے معروف ڈاکٹر دینا ناتھ چوپڑہ کی عظیم الشان کوٹھی تھی اور وہ کوٹھی ایک ایکڑ سے زیادہ رقبہ پر محیط تھی اور اس کوٹھی میں پختہ بیڈمنٹن کورٹ تھی اور ایک خوبصورت باغ تھا ۔اس کوٹھی والی جگہ پر کبھی رنبیر ماچس فیکٹری تھی جس کے مالک بیرسٹر بلاقی رام چوپڑہ تھے ۔اس کوٹھی کے عقب میں سول ہسپتال کی عمارت تھی جس کا مرکزی راستہ تھوڑا سے آگے شمال کی جانب تھا یاد رہے تقسیم تک اس ہسپتال کا انچارج اسسٹنٹ سول سرجن ہوتا تھا اور اس ہسپتال کی تقسیم سے قبل کی عمارت کی تعمیر میں حافظ آباد کے کئی مخیر حضرات نے حصہ لیا تھا جس میں رائے بہادر ڈاکٹر مہاراج کشن کپور اور شری کانشی رام بال کرشن کپور نمایاں تھے قیام پاکستان کے بعد مقامی لوگوں میں سے صرف ایک شخص شیخ محمد امین چاولہ ( ایمبیسیڈر ہوٹل) والے جن کا تعلق کولو تارڑ سے تھا اور ان کا شمار کبھی پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا نے اپنے والد محترم شیخ غلام محی الدین چاولہ کی یاد میں ایک جنرل وارڈ تعمیر کروایا تھا

عزیز علی شیخ

Site Admin

MBBS MD

Share This :

By Site Admin

MBBS MD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Need Help?