ایک گوہرِ نایاب۔۔۔ حافظ آباد کی شان
ڈاکٹر مظفر علی شیخ ایسی باوقار اور باصلاحیت شخصیت ہیں جنہوں نے طب، سیاست اور عوامی خدمت ، تینوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا۔ آپ ایک ممتاز سینئر ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مدبر، بااصول اور تجربہ کار سیاستدان بھی ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں ایک سے زائد مرتبہ عوام کی نمائندگی کرنا اور چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کے طور پر ذمہ داریاں نبھانا آپ کی عوامی خدمات کا روشن باب ہے۔
حافظ آباد کے عوام کے دلوں میں آپ کو جو مقام حاصل ہے، وہ محض عہدوں کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے خلوص، راست گوئی، خوش اخلاقی اور عوام سے مضبوط تعلق
کا ثمر ہے۔ آپ ہر خاص و عام سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے ہیں، لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک رہتے ہیں اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ معاشرے میں امید، اعتماد اور خدمت کا پیغام دیتے ہیں۔ آپ کی مسکراہٹ، انکساری اور عوام دوستی ہی آپ کی اصل پہچان ہے۔بعض لوگ سیاست میں عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنے کردار سے۔ ڈاکڑشیخ مظفر اُن لوگوں میں سے ہیں جنہیں عہدوں نے نہیں، کردار نے معتبر بنایا۔ ہماری دوستی بچپن کی گلیوں سے شروع ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں وہ کراٹے کے میدان کا بلیک بیلٹ تھا۔ جسم میں طاقت تھی، نگاہ میں اعتماد، اور طبیعت میں ضبط۔ وقت گزرا، میدان بدل گیا۔ سفید یونیفارم کی جگہ سفید کوٹ آ گیا، اور پھر اسمبلی کی نشستیں۔ مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلی… اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی عادت۔ ڈاکٹر ہونے کے ناتے انسان کی تکلیف کو سمجھا، اور سیاست میں آ کر عوام کی ضرورت کو۔ کئی بار پنجاب اسمبلی کے رکن رہے، پارلیمانی کمیٹیوں، خصوصاً صحت کے شعبے میں، اپنی استعداد کے مطابق مثبت کردار ادا کیا۔ نظام کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، لیکن ان حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر دے تو یہی اُس کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ میری معلومات اور مشاہدے کے مطابق، شیخ مظفر نے سیاست کو دولت بنانے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ خدمت کا راستہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، میرے نزدیک اُن کی اصل شناخت دیانت، شرافت اور سادہ مزاجی ہے۔ آج بھی جب اُن کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ عمر کے ساتھ صرف سفید بال نہیں کماتے، بلکہ اعتماد بھی کماتے ہیں۔ اُن کی گفتگو میں شور نہیں، دلیل ہوتی ہے۔ اُن کے لہجے میں دعوے نہیں، تجربے کی نرمی ہوتی ہے۔ اس دور میں، جب سیاست پر بداعتمادی کی گرد بہت گہری ہو چکی ہے، ایسے لوگ یاد دلاتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو اقتدار نہیں، کردار انسان کی سب سے بڑی پہچان بن جاتا ہے۔ میرے عزیز دوست، ڈاکٹر شیخ مظفر، اللہ آپ کو صحت، عزت اور خدمتِ خلق کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر
عزیز علی شیخ
خالد مرزا



