یادِ رفتگاں ۔۔۔۔ ایک شخصیت، ایک عہد
ڈاکٹر محمد منظور الحق مخدومؒ
کچھ لوگ وقت کی گرد میں اوجھل نہیں ہوتے، بلکہ اپنی علم دوستی، کردار کی خوشبو اور خدمتِ خلق کی بدولت ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد منظور الحق مخدومؒ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، ادب، طب، نعتِ رسول ﷺ اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔
آپ ایک مستند طبیب، صاحبِ طرز ادیب، کہنہ مشق شاعر
اور سراپا عشقِ رسول ﷺ تھے۔ علم و ادب آپ کا خاندانی ورثہ تھا، جبکہ اخلاص، شائستگی، انکساری اور خدمتِ دین آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھے۔ آپ بزمِ نعت پاکستان حافظ آباد، مجلسِ بہارِ سخن حافظ آباد اور میڈیکل پریکٹیشنرز ایسوسی ایشن حافظ آباد کے صدر اور سرپرست کی حیثیت سے برسوں علمی، ادبی اور سماجی میدان میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
حافظ آباد کی دینی محافل، روحانی مجالس، ادبی نشستیں اور قومی مشاعرے آپ کی پراثر آواز، شستہ اسلوب اور دل آویز کلام سے رونق پاتے تھے۔ حمد و نعت کے فروغ میں آپ کی خدمات ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی، جبکہ وطن سے محبت پر مبنی آپ کا شاعرانہ اظہار سامعین کے دلوں میں جذبۂ حب الوطنی کو تازہ کر دیتا تھا۔
ڈاکٹر منظور الحق مخدومؒ بلاشبہ ایک ایسی باوقار شخصیت تھے جنہوں نے اپنے علم، قلم، کردار اور اخلاق سے بے شمار دلوں کو متاثر کیا۔ آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی علمی و ادبی خدمات، ان کا نعتیہ سرمایہ اور ان کی خوش اخلاقی ہمیشہ انہیں زندہ رکھے گی۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر محمد منظور الحق مخدومؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجاتِ عالیہ بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے محبوب ﷺ کی معیت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
تحریر از خالد مرزا



