یادِ رفتگاں ۔۔۔۔۔ ایک شخصیت ۔۔۔ عوامی شاعر
میاں ممتاز حسین ڈوگر
میاں ممتاز حسین ڈوگر مرحوم ان شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو عوام کے جذبات، احساسات اور مسائل کی ترجمانی کا ذریعہ بنایا۔ وہ ایک نظریاتی سیاسی کارکن، بے باک عوامی شاعر اور سادہ مزاج انسان تھے۔ ان کی شاعری میں عام آدمی کی آواز، مزدور اور کسان کے دکھ درد اور قومی شعور کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔
ان کا یہ پنجابی شعر زبان زدِ عام بن گیا تھا:
“گل سن مزدور کساناں، میرا مشورہ اے بیکار نہیں
سارے ملک تے قوم دا قاتل، ووٹ تیرے دا حق دار نہیں۔”
یہ اشعار صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ عوامی شعور کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر پیغام تھے۔ سیاسی جلسوں میں جب میاں ممتاز حسین ڈوگر اپنے مخصوص انداز میں یہ کلام پیش کرتے تو حاضرین کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا اور پورا مجمع ان کے ساتھ ہم آواز ہو جاتا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ کے ایک مخلص اور نظریاتی کارکن کی حیثیت سے ان کی شناخت ہمیشہ قائم رہی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف اپنے بڑے عوامی اجتماعات میں اکثر انہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے، جہاں ان کی شاعری کارکنوں اور عوام کے جذبے کو مزید تازہ کر دیتی تھی۔
میاں ممتاز حسین ڈوگر مرحوم آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی عوامی شاعری، نظریاتی وابستگی اور دلوں کو گرما دینے والا اندازِ بیان آج بھی اہلِ ذوق کے حافظے میں زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔