Post Views: 23
میری یادیں میری باتیں ( میرا حافظ آباد)
جس سیم نالہ پر یہ سڑک بنی ہوئی ہے وہ گڑھی اعوان سے شروع ہوتا ہے اور اس نالہ پر بنی ہوئی سڑک ریلوے لائن کو کراس کرتے ہوئے بجلی محلہ کی طرف سے ادھر سے ہوتی ہوئی ڈسٹرکٹ ہسپتال کے پاس سے گزرتے ہوئے قلعہ صاحب سنگھ کے قریب جا کر مین پنڈی بھٹیاں سرگودھا روڈ سے مل جاتی ہے اور وہاں سے ہی سی پیک روڈ سے مل کر کوٹ سرور انٹر چینج کی طرف چلی جاتی ہے ۔ اب ہمارا رخ شمال کی طرف ونیکی روڈ پر ہے اس سیم نالہ سے شہر کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر کبھی محصول چونگی ہوتی تھی اور یہاں ہی سید شبیر حسین شاہ صاحب کی مسجد ہے اور اس مسجد ہی میں ان کا مزار ہے یاد رہے مولانا سید شبیر حسین شاہ صاحب کا شمار اپنے مخصوص انداز میں طریقہ خطابت کی وجہ سے پاکستان کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے اور ان کو مولانا سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی خطیب عرب و عجم کہا اور لکھا جاتا تھا / ہے اور انہوں نے اپنے نام کے ساتھ حافظ آبادی لگا کر حافظ آباد کو پوری دنیا میں متعارف کروایا تھا یاد رہے وہ ستر کی دہائی کے شروع میں حافظ آباد تشریف لائے تھے اور ان کا شمار مسلک اہل سنت والجماعت کے جید بزرگوں میں ہوتا ہے اور ان کی وفات کے بعد اس مسجد کے مرکزی خطیب ان کے ہونہار صاحب زادے بیرسٹر سید وسیم الحسن نقوی صاحب ہیں ونیکی روڈ پر سیم نالہ پر کبھی انگریز عہد کا بنا ہوا پرانا پل ہوتا تھا اور ونیکی کی طرف جانے والی کچی سڑک ایک بڑی پگڈنڈی کی شکل میں ہوتی تھی اور یہاں سے قلعہ رامکور ونیکی تارڑ اور دوسرے موضع جات کی طرف جانے کے لئے تانگوں وغیرہ کا استعمال کیا جاتا تھا امیر آدمیوں کے پاس گھوڑوں کی شکل میں اپنی ذاتی سواری ہوتی تھی باربرداری اور اجناس کی نقل و حمل کے لئے ریڑھیوں، گدھوں اور خچروں کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ تقسیم کے عرصہ بعد تک بھی یہ سڑک اتنی پر رونق نہیں تھی ساٹھ کی دہائی میں یہاں کچھ عمارتیں بنی تھیں اور محکمہ خوراک نے جھاریانوالہ کے پاس گندم کو ذخیرہ کرنے کےلئے بڑے گودام تعمیر کئے تھے اور پھر عطا اللہ تارڑ فینسی ایڈووکیٹ صاحب نے اس سڑک پر اپنی عظیم الشان کوٹھی تعمیر کی تھی اور موجودہ وقت میں وہاں بیکن ہاؤس سسٹم اسکول کی برانچ ہے ۔ اس دوران ہی اس سڑک پر سمنیٹ کی جالیاں بنانے کی ایک فیکٹری لگی تھی اور اس سڑک پر ہی کبھی ظفر ٹریکٹر ورکشاپ اور اکرم ٹریکٹر ورکشاپ تھیں اور خاص کر ظفر ٹریکٹر ورکشاپ میں مرمت کے لئے آنے والے ٹریکٹروں کا ہجوم لگا رہتا تھا ۔ یہ علاقہ جو کبھی سنسان اور کھیتوں کی شکل میں تھا اب پر ہجوم رہائشی بستیوں کی شکل اختیار کر چکا ہے کریم آباد محلہ نمایاں ہے ماسٹر مہر محمد شفیع صاحب اور جاوید مغل صاحب یہاں کی نمایاں شخصیات ہیں کریم آباد کالونی یا محلے میں اسمعیلی ششں امامیہ مسلک کے لوگوں کا ایک جماعت خانہ ہے جو کہ ان کی مذہبی عبادت گاہ ہے اس کے علاوہ اس سڑک پر موجودہ وقت میں پرائیویٹ سیکٹر میں کئی تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں اس سڑک پر ہی رانا صوبہ خان اور چوہدری فضل احمد تارڑ کے شیلر تھے رانا صوبہ خان کا تعلق موضع ساون پورہ سے تھا اور وہ ایک بڑے زمیندار اور ضلع حافظ آباد کے معروف شکاری تھے فضل احمد تارڑ کا شمار حافظ آباد کی نمایاں اور ممتاز سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ تقسیم تک ہندوؤں کے لئے اس سڑک کی بہت اہمیت تھی کیونکہ ان کی کئی مذہبی عبادت گاہیں اس سڑک پر واقع تھیں اور میں مرحلہ وار تفصیل کے ساتھ ان ہندو مذہبی مقامات کا ذکر کروں گا جو اب ختم ہو چکے ہیں مگر حافظ آباد کی تاریخ کے اوراق میں ان کا اندراج ضروری ہے ۔ سیم نالہ کا پل پار کرتے ہی ونیکی کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر مغرب کی جانب ملحقہ سیم نالہ پل کے پاس ہی آیک کٹیا تھی جو برنے شاہ کے نام سے موسوم تھی اور اس جگہ کے مالک پنڈت مکند لعل نند لعل جوشی تھے اور انہوں برنے شاہ جس کا اصل نام کنہیا تھا اور ذات کا اروڑہ تھا اور اس کا تعلق حافظ آباد سے تھا اور پہلے وہ حافظ آباد میں آلو چھولے فروخت کیا کرتا تھا پھر وہ ایک دم یہاں سے غائب ہوگیا تھا اور پھر جب کچھ عرصہ کے بعد وہ یہاں واپس آیا تھا تو سائیں لوک بن چکا تھا اور ” ستھرا” بن گیا تھا اور جو برنے شاہ کے نام سے مشہور ہو چکا تھا کو یہ جگہ اور اس سے ملحقہ کچھ اراضی دان کر دی تھی پہلے پہل برنے شاہ نے یہاں پر ایک جھونپڑی بنائی اور پھر ایک پکی کوٹھڑی بنا لی اور اس کے پاس ہی ایک چھوٹا سا بھدر کالی کا مندر بنا لیا ۔ حافظ آباد اور گردونواح کے بہت سے لوگ اس کے عقیدت مند شردھالو بن گئے تھے ۔ حافظ آباد کے مشہور اور رئیس تاجر لالہ پربھدیال ملہوترہ مالک پربھ دیال شوداس مل رائس انیڈ جننگ آئل مل روزانہ صبح یہاں اشنان کرنے اور پوجا پاٹھ کرنے آتے تھے یہاں کنواں انہوں نے ہی کھدوایا تھا اور دوسرے اخراجات بھی انہوں نے ہی اٹھائے ہوئے تھے اس مقام پر بھدر کالی کا میلہ بھی لگتا تھا یہ کٹیا بہت اچھی حالت میں اور صاف ستھری تھی اب اس کٹیا کی واحد نشانی ایک کجھور کا درخت ہے جو کہ تصویر میں نظر آ رہا ہے باقی جگ پر لوگوں نے دوکانیں اور رہائش گاہیں بنا لی ہیں ۔ تصویر میں میں نصر اللہ خان، حافظ شاہد رفیق اور دین محمد صاحبان شامل ہیں جو کہ ونیکی روڈ کے رہائشی ہیں نصر اللہ خان صاحب میرے کچی جماعت کے ساتھی ہیں اور آج عرصہ بعد ان سے ملاقات ہوئی اور گزرے وقت کی یادوں کو تازہ کیا
عزیز علی شیخ
About The Author