Mohallah Dhaab Waala

حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق

(حافظ آباد کی قدیم ڈھاب محلہ ڈھاب والا سے جڑی کچھ یادیں)

جب بھی گزرے وقت کی خوشگوار یادوں کا خیال ذہن میں آتا ہے تو سب پہلے حافظ آباد کی مشہور زمانہ ڈھاب کی شکل سامنے آجاتی ہے وجہ یہ ہے کہ میرا جدی اور پیدائشی گھر بھی محلہ ڈھاب والا میں تھا اور بچپن میں اس ڈھاب کے کنارے کھیلنا اور اس ڈھاب کے پانی میں نہانا ہماری بڑی خوشیوں میں شمار ہوتا تھا ۔ میں نے جو اپنے بزرگوں سے اور انہوں نے اپنے وڈ وڈیروں سے سنا ہوا تھا کہ جب سے یہ حافظ آباد ادھر آباد ہوا تھا یہ ڈھاب موجود تھی اور ڈھاب کے ساتھ بنا ہوا ڈیرہ یا سائیں وہاب کا دربار انگریز عہد حکومت میں 1870 ء کی دہائی میں بنا تھا یاد رہے اس ڈھاب سے ملحقہ یہ دربار والی جگہ حافظ آباد کے کپوروں کی ملکیت تھی سنا ہے کہ جب سائنیں عبد الوھاب نامی ایک مجذوب یہاں آئے تھے اور انہوں یہاں قیام کیا پہلے تو وہ اس جگہ کے ایک کونے میں تھے اور پھر یہاں ان کے دھلائے دھواں کو دیکھ کر چند ایک اور فقیر ملنگ بھی ادھر آ گئے اور ادھر خوب رونق لگ گئی اور پھر ان لوگوں نے یہاں ایک جھونپڑی بنائی اور پھر جب سائیں عبد الوھاب کا انتقال ہوا تو باقاعدہ اس کا دربار بنایا گیا اور زور وشور سے ان کا عرس شروع ہوگیا اور سائیں جی اور ان کے چیلوں نے اپنی حیات ہی میں یہاں بوہڑ اور کچھ پیپل کے درخت لگائے تھے جو آج بھی موجود ہیں ۔ اس جگہ کے مالکان کپوروں نے اپنی یہ جگہ خالی کروانے کی کوشش کی تھی مگر چونکہ اس وقت برداشت اور حافظ آباد میں مذہبی رواداری کا زمانہ تھا اس لئے کپوروں نے باہمی رضامندی سے یہ جگہ دربار کو دے دی تھی ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب ساون اور بھادوں کی بارشیں ہوتی تھی تو ہم بچہ لوگوں کا رخ اس ڈھاب کی طرف ہوتا تھا اس وقت ہماری گلی کے آخر میں مولانا عبد القوی صاحب کی مسجد تھی اور گلی کے آگے کچی پگڈنڈی تھی اور پگڈنڈی کے پار مغرب میں کھیت تھے اور ان کھیتوں کے درمیان باوا لال کا مندر تھا اور ان کھیتوں میں زیادہ تر گوبھی کی کاشت ہوتی تھی اور یہ زمین مقامی ارائیں لوگ اور میاں غلام محمد وریاہ کاشت کرتے تھے اور یہ ساری زمین مندر کے نام تھی اور یہاں کی ہندو برادری نے وقف کی ہوئی تھی ۔ ہماری گلی کا تقسیم تک نام گلی قصائیاں والی تھا اور پھر بعد میں ہمارے دادا جان محترم حکیم شیخ غلام حسین والی گلی کے نام سے مشہور ہو گئی تھی ہماری گلی میں لوری شیخوں، ہندوستانیوں، مغلوں، انصاریوں، قصائیوں، رحمانیوں کے گھر تھے ایک آدھا گھر بھرائیوں اور سنیاروں کا تھا ۔ اس وقت مسجد کے شمال میں ایک گلی تھی جو موجودہ فاروق اعظم روڈ پر جا کر نکلتی ہے اور فاروق اعظم روڈ سے ملحقہ اس گلی کے آخر میں چاولوں کا ایک بڑا کارخانہ تھا جو قیام پاکستان سے قبل ہندو برادری کی ملکیت تھا اس گلی میں زیادہ ارائیں برادری کے گھر تھے اور باہر مسجد کے ساتھ اس گلی سے آگے وسیع وعریض ڈھاب تھی ۔ ہماری گلی سے سیدھا پگڈنڈی ڈھاب کے پاس سے پوتے ہوئے سیم نالے تک جاتی تھی اور دربار کے مشرق شمال کی طرف ڈھاب کا اور سیم نالہ کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا تھا ۔ جب ہم لوگ ادھر آتے تھے تو ہمارا سب سے پہلا کام دربار کے حاضر سائیں سے بچ کر درختوں پر چڑھنا ہوتا تھا اور ہم لوگ درختوں پر چڑھنے کی وجہ سے اکثر سائیں صاحب کی گالم گلوج اور مارپیٹ کا سامنا بھی کرتے تھے اور بعض مرتبہ ہمارے گلی محلے کے جو لوگ دربار کے کنواں پر نہانے آتے تھے تو وہ ہماری مارپیٹ دیکھ کر سائیں صاحب کو اچھی خاصی سنا بھی دیا کرتے تھے ۔ جب 1965 ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی تھی تو ہماری چوتھی کی کلاسیں ادھر لگتی تھیں کیونکہ ہمارے اسکول میں مہاجرین آ گئے تھے۔ اس دربار والی جگہ پر عید کی نماز بھی ہوا کرتی تھی اور قیام پاکستان کے بعد ساٹھ کی دہائی کے آخر تک ہمارے دارا جان اس مقام پر سالانہ مجلس عزا منعقد کروائے تھے اور اس مجلس عزا میں مولانا محمد اسماعیل فاضل دیوبند ضرور شرکت کرتے تھے۔ جب برسات جوبن پر ہوتی تھی تو ڈھاب لبالب پانی سے بھر جایا کرتی تھی بلکہ ان دنوں میں سیم نالہ اور ڈھاب آپس میں مل جاتے تھے ہم لوگ جب ڈھاب میں نہاتے تھے تو ہماری کوشش ہوتی تھی کہ کنارے کے پاس ہی رہیں مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب ڈھاب سے نہا کر پانی سے باہر آتے تھے تو تمام بدن پر چھوٹے چھوٹے کالے رنگ کے کیڑے چمٹے ہوتے تھے کیونکہ ڈھاب کا پانی صاف نہیں ہوتا تھا اس وقت کچے مکانوں،چھتوں وغیرہ کی لپائی کے لئے اس ڈھاب کی مٹی نکال کر استعمال کی جاتی تھی ۔ عام دنوں میں اس ڈھاب کا نظارہ بہت دلکش ہوتا تھا کنول کے کھلے ہوئے پھول اور پانی میں تیرتی ہوئی بطخیں اور سارس اور بگلے کیا سماں ہوتا تھا ۔ اس ڈھاب کے متعلق بہت قصے کہانیاں مشہور تھیں بہت لوگ کہتے تھے کہ اس ڈھاب میں ایک سانپ رہتا ہے جس کی عمر سو سال سے زیادہ ہے اور وہ سانپ انسان کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کی پہچان یہ ہے کہ بس وہ اپنی آنکھیں نہیں جھپکتا ہے تو اس وقت ہم بڑے بزرگوں کی آنکھوں کو بڑے غور سے دیکھا کرتے تھے کہ کہیں ان میں وہ کوئی سانپ بابا تو نہیں ۔ سیم نالہ کے شمال کی جانب ارائیں لوگوں کا ایک کنواں تھا اور سیم نالہ کے آگے سے ایک پگڈنڈی تھی سنا تھا کہ وہ براستہ پریم کوٹ کولو تارڑ تک جاتی تھی اور اس پگڈنڈی کے ساتھ ہی آگے جا کر محکمہ سکارپ کا ایک ٹیوب ویل تھا جسے ہم لوگ چھوٹا ٹیوب ویل کہا کرتے تھے اور یہ ٹیوب ویل بھی ہم لوگوں کے پسندیدہ مقامات میں شامل تھا ۔ جہاں اب میاں داد کوٹ ہے اور آگے جیل ہے اور سبزی منڈی ہے ادھر سب کھیت تھے اور سیم کے ساتھ ہی ایک جگہ تقسیم کے بعد عیدین کی نماز کے لئے مخصوص کی گئی تھی یاد رہے یہ سب ساری اراضی حافظ آباد کے کھتریوں اور اروڑوں کی ملکیت تھی اور کچھ تھوڑی بہت مقامی ارائیں برادری کی ملکیت تھی اور تقسیم کے بعد جس طریقے سے غیر مسلم پراپرٹی فراڈیوں کے ہاتھ لگی تو اس ہندو متروکہ پراپرٹی کی غیر قانونی بندر بانٹ نے پورے پاکستان ہی میں جھوٹ فراڈ نوسربازی کی فصل کاشت کر دی۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس وقت حافظ آباد میں گرمیوں کے موسم میں پتنگ بازی جوبن پر ہوتی تھی اور آسمان طرح طرح کے رنگ برنگے گڈوں ، پریوں اور پتنگوں سے سجا ہوتا تھا اور بہت سے گڈے اور پتنگیں بو ہو کر ڈھاب میں گر رہی ہوتی تھیں اور بہت سارے منچلے ان پتنگوں کو لوٹنے یا پکڑنے کے لئے بلا خوف و خطر ڈھاب کے پانی میں اتر جاتے تھے۔ کل کی ڈھاب جو قدیم حافظ آباد کی نشانی تھی اب وسیع انسانی بستی میں بدل چکی ہے پتہ نہیں یہ جگہ کس کی ملکیت تھی یا نہیں وہ ڈھاب ختم ضرور ہو گئی ہے اب وہ ڈھاب ہمارے حافظ آباد کی گزری تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اب بھی جب کبھی ادھر سے گزرتا ہوں تو پرانے یار جوسی لوریا، جونا لوریا، مٹھو، رفیق پھیکا چوئی شاہ، غنی، جومی، اقبال بالو، جونا قصائی، عباس باچھو ، ایوب چپن ، بلو رندھاوا، مودی کدو، یاسین، شریف ،اختر، رشید، ککو باجوہ، پرویز بلہڑ، کاکا، الیاس، آفتاب و دیگران کی شکلیں سامنے آجاتی ہیں یاد رہے ہم سب لوگ ایک ہی گلی کے رہنے والے تھے ( ڈھاب کی ایک نادر تصویر کے لئے میں جناب ظفر علی ظفر صاحب کا بہت مشکور ہوں )

عزیز علی شیخ

Site Admin

MBBS MD

About The Author

Share This :