Sarai Jarnail Sb

حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق آثار

حافظ آباد سرائے جرنیل صاحب ( تقسیم کے بعد کوٹھی ڈپٹی باقر صاحب والی، سیدین شاہ والی) یہ عمارت بھی حافظ آباد کی قدیم اور خصوصی اہمیت والی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے یہ گول سڑک پر ( جلال پور روڈ نزد یو پی چرچ) واقع ہے اس عمارت والی جگہ پر کبھی ایک بہت بڑی سرائے واقع تھی اور جرنیل ہر سکھ رائے کپور کے نام سے موسوم تھی اور تقسیم تک یہاں ایک جدید قسم کی عمارت تھی جو کہ دیوان ملکراج ملکھی رام کپور برادران کا ڈیرہ تھا اور یہ دونوں بھائی دیوان کرپا رام کپور جو جرنیل ہر سکھ رائے کپور کے چھوٹے بیٹے تھے اور ان کا شمار راجگان پنجاب میں ہوتا تھا کے بیٹے اور جرنیل ہر سکھ رائے کپور کے پوتے تھے ۔ گزرے وقت میں اس سرائے کے مغرب کی طرف بالکل خالی جگہ اور میدان تھا ۔ سرائے کا احاطہ بڑا وسیع تھا اور اس کے درمیان ایک کنواں تھا اور ایک طرف کچھ کوٹھڑیاں بنی ہوئی تھیں جن میں مسافر ٹھہرتے تھے ۔ اس سرائے میں پنڈی بھٹیاں، جلال پور بھٹیاں اور ادھر کے گردونواح سے آنے جانے والے مسافروں کی تعداد قیام کیا کرتی تھی مسافروں کی اکثریت گڈوں اور ریڑھیوں پر سفر کرتی تھی امیر لوگوں کی سواری گھوڑا ہوتی تھی اور سواری کے لئے اونٹ کا استعمال بھی ہوتا تھا ۔ اس دور میں سرائے ایک دلچسپ عارضی قیام گاہ ہوتی تھی اور وہاں آنے جانے والے ایک طرح سے پوری تحصیل حافظ آباد کے حالات سے واقف ہو جاتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ یہ سرائے ختم ہو گئی اور اس عمارت کے ساتھ ملحقہ شمالی جانب جگہ تیلیوں کے پاس ہے جو باوا بھان شاہ کی سمادھ ( ٹریفک پولیس کا دفتر) کے ساتھ ملحقہ ہے اس جگہ پر حافظ آباد کا پہلا چاول اور برف کا کارخانہ ( 1881 ء) لگایا گیا تھا اور اس کارخانہ میں کچی برف بنتی تھی یہ کارخانہ کچھ دیر چلا تھا پھر بند ہوگیا تھا پھر ایک وقت آیا تھا کہ یہ تمام جگہ جرنیل ہر سکھ رائے کی اولاد میں تقسیم ہو گئی تھی دیوان کرپا رام کپور کا پرانی طرز کا بنا ہوا ڈیرہ جہاں اب یہ کوٹھی ہے پر بنا ہوا تھا جو تیس کی دہائی میں ان کے بیٹوں دیوان ملکراج ملکھی رام کپور صاحبان نے نئے سرے پر تعمیر کروایا تھا اور تقسیم تک اس عمارت یا ڈیرہ پر بہت رونق ہوتی تھی اور اس مقام پر ہی یہ دونوں بھائی اپنی جاگیر اور زمینداری کے معاملات دیکھتے تھے رکھ ہر سکھ رائے گاؤں ان کی اور دیوان ہری کشن کپور کی جاگیر میں شامل تھا اور وہاں واقع ایک بڑا باغ بھی ان کی ملکیت تھا تقسیم کے وقت اس عمارت میں گورکھا فوجی پلٹن کا قیام تھا جو حافظ آباد میں فسادات کی روک تھام کے لئے تعینات کی گئی تھی اس عمارت کے بالکل سامنے سڑک پار دیوان پیارے لعل کپور جن کا تعلق خاندان ذیلداراں سے تھا کا ڈیرہ تھا جہاں رانا معظم صاحب کی بعد میں عرصہ رہائش رہی تھی تقسیم کے بعد یہ عظیم الشان عمارت ڈپٹی باقر حسین ریٹائرڈ ڈی ایس پی صاحب کو الاٹ ہوئی تھی یاد رہے جگا نوالہ روڈ کا مشہور زمانہ باؤ وزیر چند ملہوترہ کا عظیم الشان باغ بھی ان کو ہی الاٹ ہوا تھا پھر ڈپٹی صاحب حافظ آباد سے سرگودھا شفٹ ہو گئے تھے اور یہ کوٹھی پھر ان کے عزیزوں کے پاس آ گئی تھی اور ماہ محرم الحرام کے دوران یہاں بڑے اہتمام کے ساتھ عاشورہ کی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے اور میرے خیال میں یہ وسیع وعریض اور خوبصورت عمارت حافظ آباد کی ان چند ایک عمارتوں میں شامل ہے جس کو تقسیم کے بعد نئے مالکان نے اچھی اور بہترین حالت میں رکھا ہوا ہے

عزیز علی شیخ

Site Admin

MBBS MD

About The Author

Share This :
Apna HafizabadApnaHafizabadAzizAziz Ali SheikhSarai Jornail