Post Views: 10
میری یادیں میری باتیں ( میرا یار کامریڈ امجد علی قادری)
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے پہلے بھی شاید ان کی شخصیت پر کوئی مضمون لکھا تھا مگر میرے خیال میں وہ مضمون تفصیلی نہیں تھا ۔ امجد میرا محلہ دار تھا اور وہ عمر میں مجھ سے تھوڑا سا بڑا تھا اور اس کا چھوٹا بھائی افضل مونا میرا بچپن کا جماعتی تھا اور میں بچپن عمر میں ان کے گھر واقع بابا رلدو والی گلی میں جایا کرتا تھا اس وقت امجد کے والد محترم چاچا جی طالب حسین صاحب کی دودھ دہی کی دوکان تھی ۔ امجد کے ساتھ میرا خصوصی یارانہ اسی کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور میں ان دنوں میں سعودی عرب ہوتا تھا اور جب بھی گھر آتا تھا تو شیخ جاوید اور محمد ارشد مہند کے ساتھ امجد سے بھی روزانہ کے حساب سے ملاقات ہوتی اور اس وقت چونکہ میری سوچ اور خیالات بھی کامریڈوں والے تھے اس لئے اس وقت ہم آزاد خیال دوستوں کا ایک گروپ بن گیا تھا اور ہمارے کئی مہربانوں نے ہم دوستوں کے اس گروپ کو کمیونسٹوں کا گروپ یا ٹولہ قرار دے دیا تھا اور اس وقت کمیونسٹ کا مفہوم یہ لیا جاتا تھا کہ جو لامذہب ہوں اور یہ سب امریکی پروپیگنڈہ کا یہاں اثر تھا ۔ہمارے اس گروپ میں شیخ جاوید شام، منور حسین بھٹی ایڈووکیٹ، حکیم محمد بوٹا شہزاد، امجد علی قادری، ارشد انصاری، آغا اکبر اور نذیر ہواتنگ وغیرہ شامل تھے ہمارے دیگر ساتھیوں میں جناب پروفیسر چوہدری صلاح الدین صاحب، مولانا سیف علی نجفی، محمد ارشد مہند ایڈووکیٹ، شیخ منور عباس، اختر بٹ،حافظ شفیق الرحمن اور حکیم قاضی محمد اقبال صاحب بھی شامل تھے مگر وہ کمیونسٹ ہونے کے الزام سے بچے ہوئے تھے ۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں حافظ آباد میں تحریک بحالی جمہوریت ( ایم آر ڈی) میں یہ سب لوگ نمایاں تھے ۔ اس وقت امجد علی قادری کی فاروق اعظم روڈ پر مرچوں کی دوکان تھی اور اس نے سرخ مرچیں پیسنے کی چکی لگائی ہوئی تھی اس نے بچپن عمر سے ہی زندگی کی مشقتوں کا سامنا کیا تھا اس لئے وہ ہر قسم کا سخت کام کرنے پر بھی تیار رہتا تھا اور محنت مزدوری کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتا تھا ۔ وہ دماغی لحاظ سے بہت تیز تھا مگر معاشی حالات کی وجہ سے میٹرک کے بعد مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکا تھا ۔ نوجوانی ہی میں محنت مزدوری کے لئے گوجرانوالہ چلا گیا تھا اور پھر کچھ عرصہ وہ باڑہ خیبرپختونخوا میں بھی پاور لومز پر کام کرتا رہا تھا مختلف جگہوں اور فیکٹریوں میں کام کے دوران وہاں پر قائم مزدور یونین کی سرگرمیوں میں بھرپور انداز سے حصہ لیتا رہا ۔ امجد کو کتب بینی کا بہت شوق تھا اور اس کے ساتھ روزانہ کے اردو اخبارات کو مکمل طور پر حفظ کر لیتا تھا اس نے کمیونزم کے متعلق بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہوا تھا ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں عوامی جمہوریہ چین اور روس کی نظریاتی طور پر آپس میں بہت مخاصمت تھی حالانکہ یہ دونوں ممالک کمیونزم کے ہی پیروکار تھے مگر اس وقت چین کے مرکزی قائد چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے نظریات اور سوچ کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کی پالیسیوں کو چلا رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ سویت یونین کی قیادت مارکسزم اور لینن کی تعلیمات سے منحرف ہو چکی ہے اور اس وقت ہمارے پاکستان میں بھی کمیونسٹ سوچ رکھنے والے دو گروہوں میں بٹ گئے تھے اور ایک گروپ روسی کیمپ کا حامی تھا اور دوسرا چینی کیمپ کا اس وقت امجد علی قادری چیئرمین ماؤزے تنگ کی فکری سوچ کا حمایتی تھا اور چیئرمین ماؤزے تنگ کی سرخ کتاب اس کے زیر مطالعہ رہتی تھی ۔ ساٹھ کی دہائی کے آخر میں اور ستر اور اسی کی دہائیوں میں پروفیسر چوہدری صلاح الدین صاحب حافظ آباد میں چینی سوشلزم کے قائد تھے اور امجد علی قادری نظریاتی طور پر پروفیسر صاحب کا شاگرد گنا جاتا تھا مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب بھی میں ان ایام میں سعودی عرب سے گھر آتا تھا تو میرا بہت وقت امجد کی دوکان پر گزرتا تھا سردیوں کے دنوں میں اس نے دھوپ میں بیٹھنے کے لئے سڑک پار عبد النبی ارائیں کے گھر کے سامنے دو تین کرسیاں رکھی ہوتی تھیں جن پر ایک کرسی پر جا کر میں بیٹھ جایا کرتا تھا اور امجد اپنے کام کاج میں مصروف رہتا تھا اس دوران اس نے لکڑی کی چھوٹی سی چھڑی اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوتی تھی اور اس کے ساتھ مرچ پیسنے والی مشین کو اونچی آواز سے ٹھک ٹھک کر کے پھر میرے پاس آ جاتا تھا اور ہمارا گفتگو کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا ہوتا تھا پھر وہاں سے شروع ہو جاتا تھا اکثر مولانا سیف علی نجفی صاحب بھی ادھر آجاتے تھے اور پھر ہمارا چائے کا ایک دور یہاں چلتا تھا اگر ہم لوگوں کی آپس میں گفتگو کے دوران امجد کی دوکان پر کوئی گاہک آ جاتا تھا تو وہ اسے زہر لگتا تھا کیونکہ اس کو اپنا بھاشن جو وہ ہم کو دے رہا ہوتا تھا بیچ میں چھوڑنا بہت مشکل لگتا تھا اور وہ بڑے غصے سے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اپنے گاہک کو اشارہ کر دیتا تھا کہ جاؤ میں فارغ نہیں ہوں ۔ امجد نے اپنی ناپسندیدہ شخصیت کو اپنی دوکان سے بلکہ اپنے سے دور رکھنے کا منفرد طریقہ ایجاد کیا ہوا تھا جب اس کا ناپسندیدہ شخص اس کی دوکان پر آتا تھا تو وہ اس شخص کے سامنے سرخ مرچ کے ذرات سے بھری پٹ سن کی بوری جھاڑنی شروع کر دیا کرتا تھا اور نتیجتاً وہ شخص بری طرح سے کھانستے ہوئے اس کی دوکان سے دور ہو جاتا تھا ۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں امجد نے کھل کر ایم آرڈی کی تحریک میں حصہ لیا تھا ۔ ان دنوں میں جب بھی سعودی عرب سے گھر آتا تو میرا زیادہ وقت امجد اور دیگر دوستوں کے ساتھ گزرتا تھا ۔ جنرل ضیاء الحق کا دور حکومت بڑے جبر کا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کے عتاب کا خاص شکار تھی ۔ امجد نظریاتی طور پر ایک کامریڈ تھا اور کچھ وہ ستر کی دہائی کے شروع سے ہی پیپلز پارٹی سے وابستہ تھا ۔ ایم آرڈی کی تحریک کے دنوں میں حکیم محمد بوٹا شہزاد کی دوکان واقع دال بازار نزد ریلوے پھاٹک کا چوبارہ ہماری سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا وہاں امجد نے ہی سب سیاسی دوستوں کو اکھٹا کرنا ہوتا تھا اور وہ سب دوستوں کو اطلاع کے لئے بائیسکل کا استعمال کیا کرتا تھا ۔ اس چوبارے پر رات گئے ہماری میٹنگیں چلتی رہتی تھیں ہماری ان میٹنگوں میں محمد ارشد مہند ایڈووکیٹ، منور حسین بھٹی ایڈووکیٹ، امجد علی قادری، محمد نذیر ہواتنگ، آغا اکبر، میں، اختر حسین بٹ ارشد انصاری، شیخ جاوید اور حکیم محمد بوٹا اور کچھ دیگران بھی شامل ہوتے تھے ۔ امجد سب ساتھیوں کے لئے چائے وغیرہ تیار کیا کرتا تھا ان میٹنگوں میں حالات حاضرہ سے آگاہی ہوتی تھی خفیہ ایجنسیوں کا اتنا ڈر ہوتا تھا کہ ہم لوگ دوران گفتگو چوبارے کی کھڑکیاں وغیرہ بند رکھتے تھے ۔ ان دنوں پاکستان میں آزادانہ خبروں کا ذریعہ صرف بی بی سی ریڈیو۔کی اُردو سروس تھی حکیم بوٹا نے اپنے چوبارے پر ایک چھوٹا سا ٹرانسسٹر ریڈیو رکھا ہوا تھا جس سے ہم لوگ بی بی سی کی خبریں اور خاص کر اس کا پروگرام سیربین بہت غور سے سنا کرتے تھے اور وہ سیربین کا پروگرام اس وقت کی پاکستان کی سیاسی صورتحال سے آگاہی کا واحد مستند ذریعہ تھا ۔ ہم لوگ آپس میں بحث ومباحثہ کرتے تھے امجد کا اس وقت کہنا تھا کہ آنے والوں وقتوں میں جو قوم اقتصادی طور پر مضبوط ہوگی وہ اس دنیا کی چوہدری ہو گی اور اس کا اشارہ عوامی جمہوریہ چین کی طرف ہوتا تھا ۔ اور اس کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ مسلم ممالک اپنے بےانتہا معدنی وسائل رکھنے کے باوجود اغیار کے کٹھ پتلی ہوں گے وہ اس وقت معروف کالم نگار زبیر رانا، اکبر علی ایم اے، ارشاد حقانی اور مشہور مصنف، تاریخ دان، محقق اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی سے بہت متاثر تھا ۔ 1986 ء کو میں مستقل سعودی عرب سے گھر واپس آ گیا تھا اور اس دوران میں میری امجد کے ساتھ قربت اور بڑھ گئی تھی شام کو وہ اپنی دوکان بند کرتا تھا اور ہم دونوں ارشد مہند کے گھر چلے جاتے تھے اور پھر جوں جوں رات گہری ہوتی جاتی تھی ارشد صاحب کی بیٹھک دوستوں سے بھر جاتی تھی اس دوران میں دو تین بار چائے کے دور چلتے اور باہمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ کبھی ہم سب دوست حکیم محمد بوٹا کی دوکان پر بھی چلے جاتے تھے اور اس کی دوکان بھی بند کرواتے اور وہاں سے سب دوست چاچا لطیف فروٹ والے کی دوکان جو کہ ریلوے روڈ کی نکڑ نزد ریلوے پھاٹک تھی پر آ جاتے تھے اور رات گئے وہاں ہمارا ڈیرہ رہتا تھا ۔ اور پھر ہم اکثر اوقات رات ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل جاتے تھے اور رات گئے تک ہمارا وہاں قیام رہتا تھا اور کبھی کبھی وہاں حکیم قاضی محمد اقبال اور خالد محمود تہامی ایڈووکیٹ کی بھی آمد ہو جاتی تھی اور بعض مرتبہ سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں ہم وہاں پلیٹ فارم کے بنچوں پر بیٹھے آپس میں بحث ومباحثہ میں لگے رہتے تھے اور اس دوران امجد ہم سب کے لئے گرما گرم چائے لے کر آتا تھا ۔ 1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات کو ہم نے حافظ آباد میں بہت قریب سے دیکھا اور پھر 1988 ء کے عام انتخابات میں ہم سب دوستوں نے دلی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا اور ان انتخابات میں کامیابی کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی تھیں ۔ حافظ آباد سے ملک فضل حسین اعوان صاحب اور ملک محمد وزیر اعوان صاحب بالترتیب ایم این اے اور ایم بی اے بنے تھے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر تھے ملک فضل حسین اعوان تو ایک روایتی بڑے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر ملک محمد وزیر اعوان کا تعلق عام ورکر کلاس سے تھا اور ان کا شمار اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے نمایاں کارکنوں میں ہوتا تھا اور ان کو اس وقت پیپلز پارٹی کا ٹکٹ بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی خواہش پر ملا تھا ۔ اس وقت ہم سب دوستوں کا ملک محمد وزیر اعوان صاحب کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا تھا مگر پھر یہ تعلق آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا گیا اور امجد کا کہنا تھا کہ اقتدار اور بڑے عہدے کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور اگر ملک صاحب وقت کے ساتھ تھوڑا سا بدل گئے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے اور پھر اس دور میں امجد علی قادری نے حافظ آباد میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں کھل کر حصہ لینا شروع کر دیا پیپلز پارٹی لیبر ونگ کا بھی وہ مرکزی لیڈر رہا اور پھر اس نے میونسپل کمیٹی کے سینٹری ورکرز کی یونین کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا وہاں امانت بھٹی اس کا نمائندہ تھا اس نے حافظ آباد میں ریڑھی بانوں اور تانگہ بانوں کی بھی یونین بنا دی تھی اور واپڈا مزدور یونین کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا کرتا تھا اور پاور لومز کے مزدور بھی اس کی رائے پر چلتے تھے اور وہ شہر کی تاجر تنظیموں کی سیاست میں بھی حصہ لیا کرتا تھا اور اس کی حمایت یافتہ تاجر تنظیم کے صدر شیخ نصیر صاحب تھے۔ ایک مرتبہ یکم مئی کے دن حافظ آباد کے مزدوروں کا جلوس جس میں میونسپل کمیٹی کے سینٹری ورکرز اور پاور لومز کے مزدوروں کی اکثریت تھی ریلوے پھاٹک سے گزر رہا تھا اور اس جلوس کی قیادت امجد علی قادری کر رہا تھا میں منور حسین بھٹی ایڈووکیٹ، حکیم محمد بوٹا شہزاد بھی جلوس میں شریک تھے یہ جلوس کافی بڑا تھا اور اس دوران امجد نے پھاٹک کے اندر ہی ایک سٹول پر کھڑے ہو کر جلوس سے خطاب شروع کیا ابھی وہ شگاگو کے شہید مزدوروں کے نام سے اپنی تقریر کی تمہید ہی باندھ ریا تھا کہ اس دوران کسوکی روڈ کی طرف سے چند افراد جلوس کی طرف آئے اور انہوں نے بلند آواز سے کہا ملک وزیر اعوان صاحب کے ڈیرہ پر میٹھے اور نمکین چاولوں اور سالن کی دیگیں تیار ہیں اور لنگر کھلنے لگا ہے بس تم لوگوں کا انتظار ہے جب ہمارے جلوس میں شامل لوگوں نے یہ اعلان سنا تو جلوس میں شامل لوگوں میں افراتفری کا عالم ہو گیا اور پھر ہر شخص کا رخ کسوکی روڈ جنوب کی جانب تھا امجد اور حکیم بوٹا نے جلوس کے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی تو مجھے جو آخر میں سین دیکھنے کو ملا تھا کہ امجد کو ایک پہلوان نما مزدور نے عین پھاٹک کے بیچ ریلوے لائن کے اوپر زمین پر لٹایا ہوا تھا اور دھڑا دھڑ اسے پیٹ رہا تھا اور حکیم بوٹا کی عینک ایک مزدور کے ہاتھ میں تھی اور دوسرے ہاتھ سے اس نے حکیم صاحب کا گریبان پکڑا ہوا تھا میں نے اور منور بھٹی نے امجد کو اس پہلوان نما مزدور سے چھڑوانے کی کوشش کی اور نتیجتاً ہم کو بھی گالیوں، تھپڑوں اور مکوں کا سامنا کرنا پڑا اور یوں ہمارا یکم مئی کا مزدوروں کے حقوق کے لئے جلوس چاولوں کی دیگوں کی نظر ہو گیا تھا ۔ امجد اپنے نظریات کا بہت پکا تھا وہ انگریزوں کی عقل و دانش کا بہت قائل تھا اور اس کا کہنا تھا کہ انگریز برصغیر ہند ؤ پاک میں اگر نہ آتے تو ابھی تک یہاں جاہلیت کا دور دورہ ہونا تھا اور اس موضوع پر وہ بڑے دلائل کے ساتھ بات کرتا تھا ۔ کبھی رات گئے ہماری محفل راجہ چوک میں بھی لگتی تھی جس میں حکیم قاضی محمد اقبال، شیخ جاوید اقبال شام، حافظ شفیق الرحمن، محمد ارشد مہند ایڈووکیٹ، مولانا سیف علی نجفی، منور حسین بھٹی ایڈووکیٹ، حکیم محمد بوٹا، اختر حسین بٹ، اصغر شاہ،اور کبھی کسی وقت خالد محمود تہامی ایڈووکیٹ اور مزدور لیڈر محمد ارشد انصاری بھی آ جایا کرتے تھے اور امجد وہاں سڑک کے ایک طرف بیٹھے ہم لوگوں کو اپنی اونچی آواز سے لیکچر دیا کرتا تھا اور اکثر شیخ جاوید کے ساتھ اس کی بحث چل رہی ہوتی تھی کیونکہ شیخ جاوید بھی اکنامکس آور دنیا کے اقتصادی امور کے معاملات سے خوب آگاہی رکھتا تھا ۔ ہم دوستوں کا کبھی کبھی پروفیسر چوہدری صلاح الدین صاحب کے گھر بھی اکٹھ ہوتا تھا یاد رہے اس وقت پروفیسر صاحب حافظ آباد میں بائیں بازو کی تحریک کے مرکزی قائد تھے اور ہماری ترقی پسند سوچ کے اصل معمار وہی ہیں اور ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ابھی تک سیکھ رہے ہیں ۔ امجد قادری ہر غمی خوشی کے معاملات میں ہمارے ساتھ ہوتا تھا ۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ منور حسین بھٹی لاہور ہائیکورٹ چلا گیا اور اس سے عرصہ پہلے شیخ جاوید مستقل لاہور چلا گیا تھا پھر حکیم محمد بوٹا بھی اپنے بچوں کے پاس اٹلی چلا گیا تھا میں شام کو بیڈمنٹن کی گیم کے لئے ایک کلب چلا جاتا تھا اور پھر جو وقت بچتا تھا وہ لیب میں شیخ محمد اسلم ایڈووکیٹ سلیمان اور دوسرے دوستوں کے ساتھ گزر جاتا تھا اور اس دوران میں امجد سے کم ہی ملاقات ہوتی تھی ایک دن جب میری اس سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو وہ کچھ کھویا کھویا اور بے ربط الفاظ بول رہا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے خیر تو ہے مگر مجھے کچھ جواب دیے بغیر اس نے ایک غمزدہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا اور مجھ سے رخصت ہو گیا ۔ پھر ایک دن امجد چوک فاروق اعظم میں مجھے نظر آیا اور وہ وہاں سڑک کے کنارے زمین پر چوکڑی مار کر بیٹھا ہوا تھا اس نے میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی میرے دل کو بہت تکلیف ہوئی میں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور سیدھا اپنے ساتھ گرم حمام لے گیا اس دوران میں نے اپنے گھر سے اپنا ایک نیا شلوار قمیض کا جوڑا بھی اس کے لئے منگوا لیا تھا وہ نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے تازہ شیو اور بالوں کی کٹنگ کے بعد اب پرانا امجد لگ رہا تھا اس کے بعد جب بھی وہ مجھے کبھی نظر آتا تھا تو میں اسے اپنے ساتھ اپنی لیب لے آتا تھا اس دوران میں ہم ایک آدھ بار ارشد مہند صاحب کی بیٹھک میں بھی گئے مگر جب چراغ ٹمٹمانا شروع کر دے تو اس کی لو دوبارہ بڑی مشکل سے بحال ہوتی ہے اور یہی حال امجد کاتھا پتا نہیں اس کے ذہن میں کیا تھا ۔ ایک دن علم ہوا کہ سٹی پولیس اسٹیشن کے سامنے بیٹھا ہوا ہے کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ پولیس اسے پکڑنے اس کے گھر آ رہی ہے حالانکہ یہ اس کے دماغ کا ایک خودساختہ مفروضہ تھا پھر بڑی مشکل سے اسے وہاں سے اٹھا کر اس کے گھر لایا گیا ۔ گرمیوں کے دن تھے جون کی دس تاریخ تھی یہ 2012 ء کی بات ہے میں لاہور آیا ہوا تھا کہ مجھے ارشد مہند صاحب کا فون آیا کہ امجد چلا گیا میں ان کے الفاظ سن کر ہکا بکا رہ گیا اور کہا کیا؟ تو انہوں نے پھر تفصیل سے بتایا کہ امجد فوت ہو گیا ہے اور بڑے قبرستان رات عشا کی نماز کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے حافظ آباد کی طرف روانہ ہوا اور سیدھا بڑے قبرستان پہنچا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی تھی اور اب اس کو سپرد خاک کرنے کی تیاری تھی اتنی دیر میں میں بھی سفید کفن میں لپٹے امجد کے پاس پہنچ گیا اور ٹارچ کی روشنی میں اس کے چہرے کو آخری بار دیکھا اور ہمیشہ کے لئے اس کو الوداع کہہ کر بوجھل قدموں سے کچھ فاصلہ پر کھڑے ارشد مہند صاحب کی طرف بڑھ گیا اور اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ ان سے گلے مل کر برابر میں ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔
عزیز علی شیخ
About The Author