Maulana Altaf Sb

حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ — علم و عمل کا روشن چراغ

بعض شخصیات محض اپنی زندگی نہیں گزارتیں، بلکہ اپنے علم، عمل، کردار اور اخلاص سے ایک عہد کی فکری، دینی اور روحانی تربیت کرتی ہیں۔ حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی اہلِ علم و تقویٰ میں سے تھے جن کی پوری زندگی علمِ دین، تقویٰ، قرآنِ کریم سے وابستگی، اکابر سے محبت، دعوت و اصلاح اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔ ان کی وفات محض ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ ایک ایسی علمی و روحانی شخصیت کا رخصت ہونا ہے جس نے اپنے گرد و پیش کے بے شمار لوگوں کے دلوں میں دین کی محبت، ایمان کی حرارت اور عمل کی رغبت پیدا کی۔

حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق وادئ سون کے نواحی گاؤں کوٹلی سے تھا۔ آپ کے والدِ گرامی حافظ عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ خود تقویٰ و دیانت کے پیکر تھے۔ اولاد کے کردار میں والدین کی تربیت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے، اور حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی اس پاکیزہ تربیت کی روشن گواہی تھی۔ آپ کی سادگی، تواضع، عبادت، اخلاص اور دین سے غیر معمولی وابستگی دراصل اسی صالح تربیت کا حسین ثمر تھا۔

آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے علاقے اور سرگودھا میں حاصل کی، پھر علم کی جستجو آپ کو کراچی کے جامعہ بنوریہ تک لے گئی، جہاں آپ نے عظیم محدث و عالمِ دین حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے علمی استفادہ کیا اور اپنی دینی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔ اکابر علماء کی صحبت اور علمی ماحول نے آپ کی شخصیت میں علم کے ساتھ خشیت، بصیرت، اعتدال اور عمل کی وہ پختگی پیدا کی جو بعد ازاں آپ کی پوری زندگی میں نمایاں رہی۔

حافظ آباد میں حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ نے ایک طویل عرصہ جامع مسجد قدیم کی امامت و خطابت اور مدرسہ اشرفیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپ کے لیے محراب و منبر محض ایک منصب نہیں بلکہ دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نسل کا مقدس ذریعہ تھے۔ آپ حافظِ قرآن تھے اور قرآنِ کریم سے آپ کا تعلق محض حفظ تک محدود نہ تھا؛ قرآن آپ کی تلاوت میں بھی تھا، آپ کی گفتگو میں بھی اور آپ کے کردار و عمل میں بھی۔ عمر کے آخری حصے تک خود نمازِ تراویح پڑھانے کی سعادت حاصل کرتے رہے، جو قرآنِ کریم سے آپ کے گہرے تعلق کی روشن علامت ہے۔

آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو دینی و ملی جدوجہد اور استقامت تھا۔ آپ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ رہے اور اپنے دینی و نظریاتی موقف پر ثابت قدمی کے باعث متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ یہ جدوجہد اس حقیقت کی آئینہ دار تھی کہ حضرت کے نزدیک دین محض گفتگو اور درس کا موضوع نہیں بلکہ زندگی کا مقصد، ایمان کا تقاضا اور ایک عظیم ذمہ داری تھا۔ حالات جیسے بھی رہے، آپ نے اپنے موقف میں استقامت، اپنی زبان میں حق گوئی اور اپنے کردار میں اخلاص کو برقرار رکھا۔

روحانی اعتبار سے حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کو شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ، نور اللہ مرقدہٗ سے بیعت و تعلق حاصل تھا۔ آپ نے ان کی صحبت سے روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کا فیض پایا۔ اسی طرح حضرت سید حامد میاں رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سعید احمد رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللّٰہ علیہ لقمان علی پوری رحمۃ اللہ علیہ، صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابرِ امت، مشائخِ طریقت اور اہلِ علم سے آپ کو گہری عقیدت و محبت تھی۔

اکابر سے محبت آپ کی طبیعت کا محض ایک پہلو نہیں بلکہ آپ کی دینی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔ یہ محبت یک طرفہ بھی نہ تھی؛ اہلِ علم اور بزرگ علماء بھی حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کی علمی پختگی، اخلاص، دینی خدمات اور حسنِ کردار کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت اور دل نشین پہلو نوجوانوں کے ساتھ ان کی بے پایاں شفقت تھا۔ حافظ آباد کے نوجوانوں کے ساتھ ان کا تعلق محض استاد اور شاگرد کا نہیں بلکہ ایک شفیق مربی، خیرخواہ اور محسن کا تھا۔ آپ نوجوانوں کی اصلاح محبت، حکمت، شفقت اور اپنے عملی کردار کے ذریعے فرماتے تھے۔ کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جن کے دلوں میں آپ کی صحبت، نصیحت اور محبت نے ایمان کی شمع روشن کی اور جن کی زندگیوں کا رخ دین کی طرف موڑنے میں آپ کی تربیت کا حصہ رہا۔

حافظ آباد کی مذہبی اور سیاسی قیادت میں آپ کو جو احترام حاصل تھا، وہ کسی عہدے یا منصب کا مرہونِ منت نہیں تھا بلکہ آپ کے علم، کردار، بے لوثی، دینی وقار اور اخلاص کا نتیجہ تھا۔ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ آپ کی بات سنتے، آپ کی رائے کا احترام کرتے اور آپ کو اپنا خیرخواہ سمجھتے تھے۔ یہی ایک عالمِ دین کی حقیقی کامیابی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے، اختلاف کے باوجود احترام کا مقام برقرار رکھے اور اس کی موجودگی معاشرے کے لیے خیر کا سبب بنے۔

آج حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی آواز، ان کی نصیحتیں، ان کی تدریس، ان کی امامت، ان کی تلاوت، ان کی شفقت اور ان کے روشن کیے ہوئے دل ان کی زندگی کی گواہی دیتے رہیں گے۔ اہلِ علم دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا علم، ان کی تعلیم، ان کے شاگرد اور ان کی تربیت یافتہ نسلیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہیں۔ حضرت کی زندگی بھی اسی روشن علمی و روحانی سلسلے کی ایک قابلِ قدر کڑی تھی۔

ایسے لوگ بظاہر رخصت ہوتے ہیں مگر حقیقت میں اپنے پیچھے علم کا چراغ، کردار کی خوشبو اور اصلاح کی ایک روشن روایت چھوڑ جاتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی زندگی کے ذریعے جو چراغ روشن کیے، امید ہے کہ وہ چراغ ان کے شاگردوں، متعلقین اور ان سے فیض پانے والوں کے ذریعے مدتوں روشن رہیں گے
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد الطاف رحمۃ اللہ علیہ کی مکمل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

Site Admin

MBBS MD

About The Author

Share This :
Altaf SbAltaf Sb HafizabadApna HafizabadApnaHafizabadHafizabadMasjid QadeemMaulanaMaulana AltafMosquesPersonalitiesQadim