Main Bazar Article

مین بازار، حافظ آباد
ہماری بچپن کے دنوں میں مین بازار حافظ آباد کے لیے ایسا ہی تھا جیسے لندن کے لیے آکسفورڈ سٹریٹ، نیو یارک کے لیے ففتھ ایوینیو، پیرس کی شانزے لیزے اور ٹوکیو کی تاکے شیتا سٹریٹ۔ ہمارے بچپن میں یہ وہ مرکزی ستارہ تھا جو آج کے زمانے میں شاید ہی کسی شہر کو نصیب ہے۔ مین بازار کا آغاز بجانب مشرق فوارہ چوک سے ہوتا تھا جبکہ اس بازار کا اختتام اس کے مغربی سرے راجہ چوک پر جا ہوتا ۔ اگر فوارہ چوک سے مین بازار میں داخل ہوا جائے تو اکبری دروازے سے پہلے دائیں ہاتھ احاطہ عدالت دیوانی واقع تھا جس سے ملحق ڈاکٹر جعفر علی صاحب کا شفا خانہ تھا۔ وہ پکی عمارت آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی جیسے کوئی کہانی اپنی ابتدا کر رہی ہو۔ ڈاکٹر جعفر علی صاحب کا آبائی علاقہ تلونڈی بھنڈراں (نارووال) تھا۔ وہ حافظ آباد شہر میں اپنا نجی شفاخانہ قائم کرنے والے پہلے ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے وہ یہاں کی اسماعیلی کمیونٹی کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔ بچپن کی کچھ ادھوری یادیں اس شفاخانہ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں۔ بیماری میں شفأ کے لئے انگنت مرتبہ ڈاکٹر جعفر علی صاحب کے شفا خانہ جانا ہوا۔ ویسے تو ہزار داستانیں رقم طراز کر سکتا ہوں مگر ایک احباب کے پیشِ خدمت کیے دیتا ہوں۔ غالباًُ موسمِ گرما کا ایک رمضان تھا۔ ان دنوں ہمارے گھر میں بجلی کا کوئی کام چل تھا۔ الیکڑیشن کو دانتوں سے تار چھیلتے دیکھا تو شام میں خود ایسی ہی کوشش کی( چونکہ اس وقت تک نیشنل جیوگرافک نہیں دیکھا کرتے تھے کہ ڈسکلیمر ہی پڑھ لیتے کہ ڈونٹ ٹرائی ایٹ ہوم) نتیجہ یہ بر آمد ہوا کہ تار تو چھِل گئی مگر ایک تانبے کی باریک تار حلق میں پھنس گئی۔ تو پھر دوڑتے ہوئے والدہ صاحبہ کی طرف گئے۔ ہمیں جب بھی کوئی تکلیف ہوتی تو والدہ کی طرف ایسے دوڑتے تھے جیسا کوئی چوزہ خطرہ بھانپ کر اپنی ماں مرغی کے پروں کے نیچے جا چھپتا ہو۔امی جان کو اپنی حالتِ زار بتائی تو انہوں نے فوراً برقعہ اوڑھا ( یہ شٹل کاک ٹائپ سرحدی برقعہ نہیں تھا بلکہ لکھنوئی طرز کا برقعہ تھا جو عمومی طور پر ایک کالے رنگ کے گاؤن اور ایک نقاب پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس زمانے میں شرفأ کی خواتین پردے کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔) اور مجھے ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر لے گئیں۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ والد صاحب کے بہت قریب تھے اس لئے ہمیں مریضوں کی لمبی قطاریں پھلانگنے کی آزادی تھی چونکہ انکل کا کلینک تھا ۔ وہی ہوا جھٹ پٹ ہمیں ڈاکٹر صاحب کی کرسی کے بالکل ساتھ والے پنچ پر بٹھا دیا گیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کا ملازم گھر سے ان کی افطاری سے لے کر آیا تھا۔ جب امی جان نے ڈاکٹر صاحب کو پوری بپتا بتائی تو ڈاکٹر صاحب نے اپنی افطاری میں ایک آلو بخارہ مجھے پکڑاتے ہو کہا نکے تارڑ آلو بخارہ کھا۔ آلو بخارہ کھاتے ہی حلق میں اٹکی تار شکم میں اتر گئی پھر کیا تھا کہ جان میں جان آ گئی۔ جب ڈاکٹر صاحب لاہور منتقل ہو گئے تو کچھ عرصہ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر فرمان جعفر نے شفاخانے کی باگ ڈور سنبھال لی۔ مگر کچھ عرصہ بعد جب وہ انگلستان منتقل ہو گئے تو شفاخانے کے سینئر کمپاونڈر طالب صاحب نے جان توڑ کوشش کی کہ یہ مسیحا کا گھر بند نہ ہو، لیکن رفتہ رفتہ اس شفاخانے کے دروازے پر تالے پڑ گئے۔ ڈاکٹر جعفر علی صاحب اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد امریکہ کے شہر ہیوسٹن جا بسے، جہاں ان کی وفات ہوئی اور وہ وہیں دفن ہیں۔ ڈاکٹر صاحب حافظ آباد جیسے پسماندہ علاقے کے لیے ایک مسیحا ثابت ہوئے اور ان کی خدمات ہمیشہ ناقابل فراموش رہیں گی۔اب آواز دیتا ہے اکبری دروازہ۔ اگر آپ اکبری دروازے سے پہلے بائیں ہاتھ دیکھیں تو سب سے پہلے ایک سوڈا واٹر فیکٹری واقع تھی۔ کاش وہ فیکٹری بھی بول سکتی۔ شاید وہ ہمیں بتاتی کہ کب حافظ آباد کا مین بازار بے آواز ہو گیا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ یہ گلیاں، یہ دروازے، اور ڈاکٹر صاحب کا وہ شفاخانہ اب ہمیشہ کے لیے یادوں کا حصہ ہیں۔

مین بازار حافظ آباد: کتابوں کی گلی میں بلیاں، قصاب، اور مہندی والے بابا
حافظ آباد کے مین بازار کے آغاز سے قبل ایک نسبتاً کھلا بازار جو سوڈا واٹر فیکٹری کے سامنے سے شروع ہو جاتا تھا۔ اس بازار میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا سحر طاری ہو جاتا۔ یہاں قصاب کی دوکان پر لگی رونق ، کتابوں کے ورقوں کی مہک، اور کہیں سے آتی بلیوں کی میاؤں یہ سب کچھ مل کر ایک الگ ہی فضا بنا دیتی تھی۔اس بازار کی مرکزی شخصیت تھے پرویز صاحب جو پرویز کتاب گھر کے مالک تھے۔ مگر یہ دوکان کتابوں کی وجہ سے مشہور نہیں تھی بلکہ شہرت کی دو بنیادیں تھیں: ایک تو یہ کہ یہاں شادی بیاہ کی سجاوٹ کا سامان وافر مقدار میں ملتا تھا، جس کی وجہ سے ہر تہوار پر یہاں لوگوں کا رش لگا رہتا۔ دوسری اور سب سے دلچسپ وجوہات تھیں خود پرویز صاحب کا مزاج اور اُن کی دو سفید بلیاں۔ پرویز صاحب روز سفید کرتہ پاجامہ پہنتے، بڑے لیڈ بیک انداز میں کاؤنٹر پر جلوہ گر ہوتے۔ اور ان کے ساتھ صبح سویرے دو سفید بلیاں دوکان پر آ بیٹھتیں، بالکل کاؤنٹر پر، جیسے وہ مالک ہوں۔ یہ طے تھا کہ جو کوئی پرویز کتاب گھر آتا، اُس کی ملاقات اِن بلیوں سے ضرور ہوتی۔ کچھ گاہک کتاب لینے آتے، کچھ سجاوٹ کا سامان، لیکن زیادہ تر لوگ صرف اِن بلیوں کو دیکھنے اور پرویز صاحب کی باتوں کا لطف اٹھانے آتے۔ انسان اور جانور کے تعلق کو سمجھنے کے لیے پرویز صاحب کو دیکھنا ہی کافی تھا۔ اب پرویز صاحب کی دوکان کے بالکل ساتھ تھی قصاب کی دوکان اور یہ قصاب حافظ آباد بھر میں مشہور تھا اعلیٰ معیار کے کٹے ( بھینس کا بچھڑا) کے گوشت کے لیے۔ اس علاقے کی خاص بات یہ تھی کہ مین بازار سے ملحق گلیوں میں رہنے والوں کی اکثریت ۱۹۴۷ میں ہریانہ کے ضلع یمنا نگر کے تاریخی قصبے سادہوڑا سے ہجرت کر کے آئی تھی۔ یہ سادہوڑا واسی بڑے گوشت ( Beef/Bison ) کے رسیا تھے چنانچہ قصاب کی دوکان پر ہمیشہ انہی کی بھیڑ جمی رہتی۔ کتاب گھر کی بلیاں اور قصاب کی دوکان کی رونق، دونوں کا عجیب مگر دلکش امتزاج در حقیقت اس بازار کی روح تھی۔ اسی قصاب کی دوکان کے بالکل ساتھ رانا فضل الٰہی صاحب کا اسلامی کتب خانہ تھا۔ یہاں نصابی کتب، اسٹیشنری، مذہبی لٹریچر، تاریخ، فکشن، نان فکشن اور بچوں کی کہانیاں سے لے کر ہر چیز موجود تھی۔ لیکن رانا صاحب خود بھی اپنی ہی ایک علامت تھے۔ وہ اپنے سفید بالوں کو رنگنے کے لیے خضاب کی بجائے لال مہندی استعمال کرتے تھے، اور جب وہ اپنی دوکان پر بیٹھتے تو ان کی لال مہندی والے بال مین بازار میں دور سے چمکتے نظر آتے۔ اور ان کے بالکل بغل میں تھا احسان اللہ خان صاحب کا خان بکڈپو۔ یہ دوکان نصابی کتب کے علاوہ اسٹیشنری کی جدید قسموں، آرٹ اور ڈرائنگ سپلائی، چارٹ، کینوسز اور سائنسی آلات کی وجہ سے مشہور تھی۔ خان صاحب بہت نفیس شخصیت کے مالک تھے، ہمیشہ سفاری سوٹ زیب تن کیے ہوتے۔ ان کی رہائش دربار روڈ حافظ آباد پر تھی، مگر افسوس کہ وہ جوانی میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات کے بعد آج بھی ان کے چھوٹے بھائی اور صاحبزادے خان بک ڈپو کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری ہے، جیسے کوئی خاندانی ورثہ ہو۔ اسی اکبری دروازے کی ڈیوڑھی پر فتح آباد کتاب گھر واقع تھا، جس کی بنیاد فیروز فتح آبادی نے رکھی تھی۔ وہ فتح آباد، ہریانہ سے ۱۹۴۷ میں ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے۔ فیروز فتح آبادی پنجابی کے جید نعت گو شاعر تھے، لیکن ان کی دوکان خالصتاً نصابی کتب اور اسٹیشنری کے لیے مشہور تھی۔ شاعر کی دوکان اور شاعر کی شاعری کا کوئی تعلق نہیں تھا یہ بھی اس بازار کی ایک باریک بینی تھی۔ یہ تھا مین بازار کا وہ ابتدائیہ جہاں ایک طرف سفید بلیاں کاؤنٹر پر براجمان ہوتیں، دوسری طرف قصاب تازہ گوشت کاٹتا، کہیں لال مہندی والے بابا بیٹھے مذہبی کتابیں بیچتے، تو کہیں سفاری سوٹ میں ملبوس نفیس انسان سائنسی آلات سجا کر رکھتا۔ یہ بازار محض کتابوں کا نہیں تھا، یہ لوگوں کی کہانیوں کا بازار تھا۔ جو نہ صرف ہجرت کی دھول اڑاتے ہوئے یہاں آباد ہوئے، بلکہ اپنے ساتھ سادہوڑا، فتح آباد اور یمنا نگر کی یادیں بھی لائے۔

شاہنواز تارڑ

Site Admin

MBBS MD

Share This :
An Article By Shahnawaz TararApna HafizabadHafizabadMain Bazar ArticleShahnawaz Tarar