Aasar-E-Hafizabad

میری یادیں میری باتیں ( آثار حافظ آباد)

دیوانی عدالت مین بازار کے شرقی دروازے کے باہر تھی اور شرقی دروازے کے ساتھ ملحقہ گلی میں تقسیم کے بعد حافظ آباد کے دوسرے ایم بی بی ایس ڈاکٹر جناب جعفر علی صاحب کا کلینک تھا ان کے کلینک کا ایک دروازہ شرقی دروازے کے باہر والے بازار میں بھی تھا اور ان کے کلینک کے ساتھ ہی کھلے بازار میں کبھی لکڑی کے کھوکھے تھے اور ان کھوکھوں میں کتابوں اور سامان منیاری والے اپنا دھندہ کرتے تھے ۔ ڈاکٹر جعفر علی صاحب بہت خوبرو اور دھیمے مزاج والے انسان تھے انہوں نے حافظ آباد میں 1959 ء میں اپنی پریکٹس کا آغاز کیا تھا وہ نشتر میڈیکل کالج کے پہلے بیج کے گریجویٹ تھے اور آبائی طور پر ان کا تعلق ناروال سے تھا حافظ آباد میں پرائیویٹ سیکٹر میں پہلی ایکسرے مشین انہوں نے لگائی تھی اور اپنے وقت میں حافظ آباد میں ان کا طوطی بولتا تھا ۔ اس وقت جہاں فوارہ چوک ہے اور اس کے مشرق کی طرف دکانیں ہیں تقسیم سے برسوں قبل لالہ جواہر مل کپور کے نام سے موسوم دانہ منڈی تھی پھر عرصہ یہاں قلعہ دیدار سنگھ سے تعلق رکھنے والے کچھ شیخ گھرانے چمڑے اور جوتوں کا کاروبار کرتے رہے تھے کبھی اس جگہ پر کھلا احاطہ تھا پھر عرصہ یہاں ٹرکوں کا اڈہ رہا تھا اور اس اڈے کے مالک چاچا بشیر تھے جن کی عرفیت چاچا بشیرا ٹرکاں والا تھی اور وہ ادھر ایک بڑی چارپائی پر براجمان نظر آتے تھے اور اس کے ساتھ ہی مرکزی امام بارگاہ ہے جس کو کربلا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس امام بارگاہ والی جگہ پر قدیم دور میں چبوترے بنے ہوئے تھے جہاں پر قدیم حافظ آباد کے اہل تشیع حضرات علم اور تعزیہ رکھا کرتے تھے ۔ یہاں سے ایک راستہ ریلوے لائن کی طرف جاتا ہے کبھی اسے مانگٹ روڈ کہا جاتا تھا اور یہ قدیمی شاہراہِ حافظ آباد کو لاہور سے منسلک کرتی تھی جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کیا تھا تو حافظ آباد کا ابتدائی ڈاکخانہ اس مقام پر ہی بنا تھا ۔ موجودہ وقت میں جہاں جلال مارکیٹ ہے کبھی اس جگہ پر شیخ جلال دین کا برف کا کارخانہ تھا ہمارے بچپن میں یہ کارخانہ ہمارے لئے بہت باعث کشش تھا کیونکہ اس میں پانی کا ایک بڑا تالاب تھا جس میں نہانے کے لئے ہمارا بہت من کرتا تھا مگر بچوں اور چھوٹی عمر کے لڑکوں کو یہاں نہانے نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ تالاب بہت گہرا تھا اور پانی سے لبا لب بھرا ہوتا تھا ۔شیخ صاحب کو یہ کارخانہ تقسیم کے بعد الاٹ ہوا تھا اور پہلے یہ چاول کا کارخانہ تھا اور شیخ صاحب نے پھر بعد میں یہاں برف کا کارخانہ لگایا تھا ۔ شیخ جلال دین کا اصل وطن امرتسر تھا اور تقسیم کے وقت وہ اپنے خاندان کے ہمراہ حافظ آباد آ گئے تھے اور کبھی ان کا شمار حافظ آباد کے رؤسا میں ہوتا تھا مجھے ان کا شخصی خاکہ یاد ہے ان کا پتلا جسم تھا اور سر پر ترکی ٹوپی پہنتے تھے ان کی دولت اور امارت کے متعلق شہر میں داستانیں مشہور تھیں سنا ہوا ہے کہ شیخ صاحب جب کبھی لاہور جاتے تھے تو اپنا بائیسکل بھی بس کی چھت پر رکھ کر اپنے ساتھ لاہور لے جاتے تھے اور جتنے دن ان کا وہاں قیام رہتا تھا وہاں وہ اپنی سواری ہی استعمال کرتے تھے اور فضول خرچی کے سخت مخالف تھے مگر مساجد اور دینی اداروں میں دل کھول کر عطیات دیتے تھے اور دولت ان کے گھر کی باندی تھی ان کا رہائشی مکان بہت بڑا عالیشان اور کئی منزلہ تھا جو دور سے نظر آتا تھا مگر افسوس ان کی جمع کی ہوئی بےشمار دولت ان کے دنیا سے رخصتی کے فوری بعد ان کی اولاد نے اڑا دی ان کی کچھ جائیداد گوجرانوالہ روڈ پر بھی تھی ۔ شیخ جلال دین کے کارخانہ سے ملحقہ سڑک پر تقسیم تک اروڑبنس ہال تھا جو حافظ آباد کی اروڑا برادری کی ملکیت تھا اور اس میں شادی بیاہ کی باراتیں قیام کرتی تھیں اور دیگر اجتماعات ہوتے تھے ۔ شیخ جلال دین کی مارکیٹ کے شمال کی جانب جانوروں کا ہسپتال ہے یہ جگہ بھی بہت قدیمی ہے کہا جاتا ہے کہ شیرشاہ سوری بادشاہ کے دور میں یہاں پانی کا تالاب اور اس کے ساتھ گھوڑوں کا اصطبل تھا اور اس سے ہی قلعہ حافظ آباد ملحقہ تھا اور 1890 ء کے لگ بھگ جب ریلوے لائن کے لئے کھدائی ہو رہی تھی تو یہاں بہت قدیم دور کی اشیاء ملی تھیں ۔ ریلوے لائن کے پار کبھی اپنے وقت کا سب سے بڑا کپاس اور تیل کا کارخانہ تھا جس کے مالک شیو داس مل ملہوترہ تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد یہ عظیم الشان کارخانہ ملیر کوٹلہ کے نواب خاندان کو الاٹ ہوا تھا اور اس کارخانہ کی جگہ پر اب رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز قائم ہیں ادھر ہی حافظ آباد کے ممتاز ڈاکٹر محمد یاسین انصاری صاحب کا کلینک اور فاطمہ ہسپتال یے ۔ اس مقام کے بالکل سامنے کسوکی روڈ ہے اور وہاں سے ہی ایک راستہ گڑھی اعوان کے اندر جاتا ہے ۔اس بڑے گلی نما راستے کے اندر جاتے ہوئے ہی بائیں ہاتھ پر گلی کے ساتھ ایک اجڑا ہو ڈیرہ آتا ہے اور اس ڈیرے کے ساتھ مشرقی جانب ایک قدیم قبرستان ہے ۔ اس ڈیرہ کو تھہیموں کا ڈیرہ کہا جاتا ہے ۔حافظ آباد کے اس تھہیم خاندان کی تاریخ بہت دلچسپ اور پراسراریت پر مبنی ہے۔ کبھی اس ڈیرہ پر بڑی رونق اور گہما گہمی ہوتی تھی چوہدری ہارون الرشید تھہیم تھہیم خاندان کی قد آور شخصیت تھے اور جنرل محمد ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں ان کے بنائے نظام میں پنجاب کی مجلس شوریٰ کے رکن رہے تھے اور ان کے سب سے چھوٹے بیٹے حاجی جمشید عباس تھہیم کبھی حافظ آباد سے 1985 ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں کروائے گئے غیر جماعتی انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہوئے تھے اور قیام پاکستان کے فوری بعد حافظ آباد کے اعوانوں اور تھہیموں کی باہمی چپقلش کے قصے پورے علاقے میں مشہور تھے ۔

Site Admin

MBBS MD

Share This :
ApnaHafizabadApnaHafizabadDotComAzizAziz Ali SheikhBy The Pen Of Aziz Ali SheikhHafiz AbadHafizabadHistory