Dr Muzaffar Ali Sheikh

شخصیات حافظ آباد

ڈاکٹر مظفر علی شیخ 1958 ء کو حافظ آباد میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظ آباد کے نمایاں قدیم اور ممتاز ترین تعلیمی ادارے ایم بی ہائی اسکول نمبر ایک سے میٹرک کیا ۔ گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور نشتر میڈیکل کالج ملتان سے 1985 ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور 2012 ء میں رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنر یو کے کی ممبرشپ حاصل کی دوران تعلیم آپ اعلیٰ درجے کے کھلاڑی بھی تھے گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ اور نشتر میڈیکل کالج کے کئی اعزازات اپنے نام کئے تھے اور اس وقت نشتر میڈیکل کالج میں ڈاکٹر صاحب بروس لی کے نام سے مشہور تھے۔ حافظ آباد آنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ موضع مہدی آباد میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کی اور پھر سرکاری ملازمت کو ترک کر کے اپنا ذاتی کلینک شروع کیا یاد رہے ڈاکٹر صاحب کا خاندان پیشہ طب سے 1936 ء سے وابستہ ہے۔ حافظ آباد میں عملی پریکٹس کے دوران ڈاکٹر صاحب کو اس امر کا احساس ہوا کہ خطہ حافظ آباد میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرح بہت زیادہ ہے اور پھر ڈاکٹر صاحب کی خصوصی درخواست پر سر آغا خان میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے اعلیٰ درجہ کے ماہرین پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم نے حافظ آباد کا تفصیلی سروے کیا اور ان کی رپورٹ کے مطابق یہاں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرح حیران کن تھی ۔ ڈاکٹر صاحب نے وہ رپورٹ دیکھتے ہی اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے خطہ حافظ آباد میں اس موذی مرض کے حیران کن طور پر زیادہ ہونے کی وجوہات کا سبب معلوم کریں گے اور حافظ آباد کے عوام کو اس موذی مرض سے نجات دلائیں گے ۔ 1994 ء کو اپنے چند درد دل رکھنے والے دوستوں اور ساتھیوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ حافظ آباد اینٹی ہیپاٹائٹس نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کے وہ چیئرمین اور خالد محمود تہامی ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری تھے یاد رہے حافظ آباد کے عوام کے لئے یہ فلاحی تنظیم ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے اپنے ذاتی وسائل کے ساتھ قائم کی تھی ۔اور پھر اس تنظیم کے تحت حافظ آباد میں منعقدہ سمینارز اور واک کے ذریعہ عوام کو اس خوفناک مرض سے محفوظ رہنے اور تدارک کے طریقہ کار سے آگاہ کیا اس وقت حافظ آباد کا مقامی صحت کا ادارہ اور سینئر ڈاکٹر صاحبان خاص کر ڈاکٹر جعفر علی ،ڈاکٹر محمد صادق چوہدری ، ڈاکٹر محمد یاسین انصاری ، ڈاکٹر شیخ عبد الرشید اور ڈاکٹر محمد اکرم اور ڈاکٹر سلطان علی و دیگران ڈاکٹر مظفر علی شیخ صاحب کے ساتھ خصوصی تعاون کرتے رہے اور اس وقت کے حافظ آباد کے صحافی حضرات نے بھی اس موذی مرض کے خطرناک اسباب اور وجوہات اور اس سے محفوظ رہنے کے طریقوں سے عوام کو آگاہی اور شعور دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب ذاتی طور پر بھی اس مرض پر گہرائی سے تحقیق کرتے رہے اور مختلف میڈیکل جریدوں میں اس مرض کے متعلقہ ان کے مقالہ جات شائع ہوئے اور دنیا کے مختلف ممالک میں منعقدہ ہونے والے میڈیکل سمینارز میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے مرض اور اس کے خوفناک نتائج کے متعلق شرکاء کو آگاہ کیا اور بڑی محنت سے مرتب کئے ہوئے اعدادوشمار کو ترقی یافتہ ممالک کے فورم پر پیش کیا ۔ 2002 ء کے عام انتخابات میں ڈاکٹر صاحب حافظ آباد شہر سے مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پربھاری اکثریت کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پرانے روایتی سیاست دانوں کو شکست سے دوچار کیا یہ سب کچھ حافظ آباد کے عوام کا آپ پر اعتماد کا اظہار تھا ۔اور پھر 2003 ء میں آپ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ پنجاب کے چیئرمین منتخب ہوئے اور اس وقت آپ ضلع حافظ آباد کی ڈویلپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے ۔ ڈاکٹر صاحب کی دلی تمنا تھی کہ وہ اپنے علاقے کو ہیپاٹائٹس سے محفوظ رکھنے اور یہاں کے عام عوام کو اس مرض کے متعلق علآج کی سہولیات مہیا کرنے کے لئے کوئی خصوصی کام کریں تو اللہ پاک کی مقدس ذات نے ان کو وہ موقع فراہم کر دیا تھا اور ڈاکٹر صاحب کی خصوصی کاوش محنت لگن سے اس وقت کی پنجاب حکومت نے جس کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی تھے ڈسٹرکٹ ہسپتال حافظ آباد میں پاکستان کا پہلا اینٹی ہیپاٹائٹس ہسپتال قائم کیا اس وقت اس ہسپتال کے قیام کے منصوبے میں کئی رکاوٹیں پیش آئیں مگر آپ نے یہ منصوبہ مکمل کروا کر دم لیا اور پھر یہ ہسپتال چالو ہونے کے بعد ضلع حافظ آباد میں حافظ آباد کے عام عوام کو ہیپاٹائٹس کے مرض کے مفت علاج کی سہولیات میسر ہو گئیں ۔ اس ہسپتال کا قیام آپ کا ایک بڑا کارنامہ اور حافظ آباد کے عام عوام کے لئے بڑا تحفہ تھا اور یہ ہسپتال بھی اس وجہ سے بن گیا تھا کہ ایک تو آپ ڈاکٹر تھے اور پھر ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض کے خطرناک نتائج سے آگاہ تھے اور ان کو اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ اس مرض کے بروقت علاج سے انسانی جانوں کو بچایا اور آنے والی نسلوں کو محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔ اس وقت پی آئی سی ( دل کا ہسپتال لاہور) میں حافظ آباد کے دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے فوری علاج اور شنوائی کے لئے ہسپتال کے اندر ایک اسپیشل حافظ آبادی کاؤنٹر قائم کروایا تھا ۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو میڈیکل یونیورسٹی میں بدلنے کے لئے ڈاکٹر صاحب نے پروفیسر ڈاکٹر ممتاز حسن اور پروفیسر ڈاکٹر سید اویس شاہ کے ساتھ مل کر خصوصی کام کیا اور ڈاکٹر صاحب کی خصوصی کاوشوں سے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی ہو کر بحثیت چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی ہیلتھ برائے پنجاب کی منظوری کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میڈیکل یونیورسٹی میں بدل گیا تھا ۔ اس طرح ہی پنجاب میں 1122 جیسی فلاحی سروس کے قیام کے لئے بھی ڈاکٹر صاحب کی خصوصی کاوش اور تجاویز شامل تھیں ۔ ڈاکٹر صاحب 2002 ء تا 2007 ء پنجاب انٹیی ہیپاٹائٹس پروگرام اور ایڈز پروگرام کے چیئرمین بھی رہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے پانچ سال تک پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کئے ۔ گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز میں ماسٹر ڈگری کلاسوں کا اجراء اور گورنمنٹ کالج فار گرلز میں نئے بلاک کی تعمیر اور کمپیوٹرز کی فراہمی ، ایم اے کی کلاسز کا اجراء اور ڈسٹرکٹ اسپورٹس کمپلیکس حافظ آباد کی تعمیر آپ کی صحت مندانہ سرگرمیوں اور تعلیم سے خصوصی لگاؤ کی واضح مثال ہیں ۔ اس کے علاوہ اپنے حلقہ انتخاب میں پینے کے صاف پانی کے بے شمار فلٹریشن پلانٹ لگوانے ۔2018 ء کے عام انتخابات میں آپ دوبارہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جو حافظ آباد کے عوام میں آپ کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے گو اس وقت آپ اپوزیشن میں تھے اور سیاسی طور پر بہت مشکلات کا سامنا کر رہے تھے مگر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں حافظ آباد کے عوام کے مسائل پر بولتے رہے ۔ اس دوران میں آپ پنجاب اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کے رکن رہے خاص کر خزانہ کے امور کے متعلق آپ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی فنانس میں اکلوتے اپوزیشن ممبر نامزد ہونے تھے۔ ڈاکٹر صاحب پورے ضلع حافظ آباد میں اپنی فلاحی خدمات اور تعمیری سوچ کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں

Site Admin

MBBS MD

Share This :
Apna HafizabadAzizAziz Ali SheikhDr Muzaffar Ali SheikhPersonalities