Views: 13
حافظ آباد کی تاریخ کے گمشدہ اوراق
کپور اور چوپڑہ خاندان تقسیم ہندوستان (1947) تک حافظ آباد کی تاریخ میں کپور اور چوپڑہ خاندانوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے یہ دونوں خاندان یا سب کاسٹ کھتری قبیلہ سے تعلق رکھتی ہیں یاد رہے ہندو ذات پات کے نظام میں کھتری برہمن کے بعد سب سے اعلیٰ ذات گنے جاتے تھے اور ان دونوں ( کپوروں اور چوپڑوں) کو حافظ آباد کے تقسیم تک جدید آباد کاری، تجارت اور زمینداری کا بانی مانا جاتا ہے اور ان کو یہاں کی زرعی اراضی کی ملکیت اور یہ زمینیں کیسے ملیں، اس کی تفصیل درج ذیل ہے (1) وہ کتنی ایگریکلچر لینڈ ( زرعی زمین) کے مالک تھے ۔تاریخی ریکارڈز، گزٹیرز اور خاندانی یادداشتوں کے مطابق کپور اور چوپڑے خاندان حافظ آباد شہر اور اس کے گردونواح کی تقریباً دو تہائی 3/2 جائیداد اور اراضی کے مالک تھے اور ان خاندانوں کے پاس ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی موجود تھی مثال کے طور پر جرنیل ہر سکھ رائے کپور کے پوتے اور سردار جیون سنگھ کپور کے بیٹے دیوان ہری کشن کپور کا شمار علاقے کے سب سے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا جن کی ملکیت میں ہزاروں ایکڑ رقبہ تھا ۔۔شہری و کاروباری اجارہ داری: زرعی زمینوں کے علاوہ حافظ آباد کی غلہ منڈیاں، باغات، زیا
دہ تر دوکانیں، چاول کے اور دیگر کئی اقسام کے چھوٹے بڑے کارخانے اور یہاں تک کے حافظ آباد شہر کا پہلا پاؤر ہاؤس ( جسے 1936میں رائے بہادر ڈاکٹر مہاراج کشن کپور نے لگایا تھا) وہ بھی ان کی ملکیت تھے ۔ حافظ آباد شہر کا ایک بڑا علاقہ طرف چوپڑاں کے نام سے ریکارڈ میں موجود ہے .. ان کو یہ لینڈ ( زمین) کیسے ملی تھی: کپور اور چوپڑے خاندانوں کو یہ وسیع اراضی مختلف ادوار میں تین بڑے ذرائع سے حاصل ہوئی تھی (1) مغل اور سکھ دور میں شاہی خدمات ( شاہی عطیات اور جاگیریں) دیوان محکم چند چوپڑہ کا کردار: مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کابینہ اور سکھ دربار میں ایک انتہائی بااثر ” دیوان” ( وزیر مال/ جرنیل تھے اور ان کی سکھ سلطنت کے لئے جانثاری اور خدمات کے عوص میں ان کو سکھ دربار کی طرف سے حافظ آباد اور گردونواح میں وسیع جاگیریں الاٹ کی گئی تھیں اور چوپڑے حافظ آباد میں کپوروں کی آمد سے پہلے کے آباد تھے اور ان کو حافظ آباد کے
اصل باسی بھی کہا جاتا ہے ۔۔ کپور خاندان کی آمد: تاریخی روایات کے مطابق حافظ آباد کے پہلے اور اصل آباد کار چوپڑے تھے اور انہوں نے کپوروں کے ساتھ اپنے خاندانی رشتے جوڑے ( اپنی بیٹیاں کپوروں سے بیاہیں) اور اس طرح جہیز کے طور پر کپوروں کو بہت بڑی زرعی اراضی اور زمینیں تحفے میں ملیں ۔ بعد ازاں چوپڑہ خاندان کی ہی سفارش پر کپور خاندان بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے شاہی دربار تک پہنچا تھا ( مگر تذکرہ رئیسان پنجاب میں لکھا ہے کہ حافظ آباد کے دیوان کپور خاندان کا حافظ آباد میں بڑا منصب دار لالہ لچھی رام کپور مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور حکومت میں شاہی دربار کی طرف سے حافظ آباد میں منصب دار تعینات کیا گیا تھا) اور جرنیل ہر سکھ رائے کپور جیسے بڑوں کو بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے شاہی دربار تک رسائی مشہور زمانہ دیوان ساون مل چوپڑہ حاکم علاقہ ملتان کی وجہ سے ملی تھی اور حافظ آباد کے کپوروں کو سکھ دور میں بڑی جاگیریں ملی تھیں اور دیوان ساون مل چوپڑہ کے تحت ہی ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں تعینات دو ممتاز فوجی کمانڈر رام رنگ کپور اور رام رکھا کپور حافظ آباد کے کپور خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور چوپڑہ خاندان کے قریبی رشتے دار تھے ۔ اور ان کپوروں نے سکھ دربار کے لئے دل وجان سے خدمات انجام دی تھیں اور اس طرح اس دور میں علاقے کے طاقتور، اور اشرافیہ میں شامل ہو گئے تھے سکھ دور حکومت میں جب دیوان ساون مل چوپڑہ خطہ حافظ آباد کا کاردار تھا تو اس کے دور میں خاص کر حافظ آباد کے کپور بہت طاقتور ہو گئے تھے۔۔انگریز راج: 1849ء میں جب انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تو حافظ آباد کے کپور خاندان کی اکثریت نے انگریزوں کی فوری اطاعت قبول کر لی تھی اور حافظ آبادی کپوروں میں سے صرف سکھ دور کے ایک جاگیر دار سردار مدن سنگھ کپور نے ملتان میں انگریزوں کے خلاف ایک بڑی لڑائی لڑنے والے حاکم ملتان دیوان مولراج چوپڑہ کا ساتھ دیا تھا اور نتیجہ کے طور پر حافظ آباد میں اس کی ساری جاگیر انگریزوں نے ضبط کر لی تھی ۔ انگریزوں نے اپنے وفادار جاگیرداروں کی جاگیروں کو برقرار رکھا بلکہ ان میں اضافہ کیا اور اپنے وفادار خاندانوں کے سرکردہ لوگوں کو خطاب دئے، ذیل دار، اور درباری بنایا اس میں حافظ آباد کے ہندو اور مسلمان بڑے سب جاگیر دار شامل تھے ۔ انگریز دور حکومت میں حافظ آباد کے پڑھے لکھے چوپڑہ اور کپور خاندانوں کے کئی لوگ انگلستان سے بیرسٹر بن کر آئے تھے اور انگریز حکومت میں وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے تھے اور حافظ آباد کے ان خاندانوں کے کئی لوگ آئی سی ایس تھے اور فوج اور میڈیکل لائن میں تھے اور اپنے ان اعلیٰ عہدوں کی وجہ سے انہیں مزید سرکاری زمین، انعام زمین، اور مالیے سے معافی کی مراعات ملیں ۔ تجارت اور رہن کے ذریعے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کی حافظ آباد کے کپوروں کے متعلق مشہور تھا کہ ان کو جنگل بیابان، دریا یا صحرا جہاں بھی زمین ملتی تھی وہ خرید لیتے تھے ۔ یہ خاندان ناصرف حافظ آباد کے بڑے جاگیر دار تھے بلکہ بہت بڑے تاجر اور ساہوکار بھی تھے اور وہ مقامی چھوٹے کاشتکاروں، اور بڑے بڑے مسلمان زمینداروں کو زراعت اور ان کی ذاتی ضروریات کے لئے بھاری رقوم بطور قرض بھی دیتے تھے اور جب کوئی مقروض ان کی رقم واپس نہ کر سکتا تو یہ اس کی زمین خرید لیا کرتے تھے یا بحق سرکار وہ جگہ ان کے نام منتقل ہو جاتی تھی ۔ اور اس طرح انگریز دور میں بھی ان کے اثرورسوخ کی وجہ سے ان کی زرعی اراضی اور شہری جائیداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔۔
خلاصہ: تقسیم تک حافظ آباد کے کپور اور چوپڑے حافظ آباد کے امیر ترین خاندان تھے ان کی سکھ دور کی ہزاروں ایکڑ اراضی سکھ دور کی شاہی جاگیروں، خاندانی جہیز/ عطیات اور برٹش دور کی تجارتی و سیاسی بالادستی کا نتیجہ تھی جو 1947ء میں ان کی یہاں سے ہجرت تک برقرار تھی چوپڑے حافظ آباد کے قریب مشرق شمال کی جانب موجودہ ہیڈ ساگر والے مقام پر ایک بڑی جاگیر کے مالک تھے ودیا ساگر چوپڑہ کے نام پر ہی ہر دو ساگر اور ہیڈ ساگر ہیں اور پھر وقت کا دھارا بدل گیا یہاں کے سب سے بڑے جاگیر دار دیوان ہری کشن کپور کو پانی پت میں صرف چند سو ایکڑ اراضی ملی تھی دنیا عبرت کا مقام ہے بس سدا باقی اللہ کا پاک نام ہے
عزیز علی شیخ
About The Author