ہمارے دادا جان محترم حکیم شیخ غلام حسین لوٹھڑہ ( رسولنگری) یہ دادا جان محترم جن کو ہم بڑے اباجی کہا کرتے تھے کی اپنے مطب واقع ڈاکخانہ روڈ پر اسی کے آخر کی دہائی کی تصویر ہے ۔ ہمارے بڑے ابا جی نے 1936ء کو اپنے مطب جس کا نام دواخانہ ممتاز الصحت تھا کا آغاز کیا تھا اور اللہ پاک نے ان کے ہاتھ میں اپنے مریضوں کے لئے خاص شفا دی ہوئی تھی یاد رہے قیام پاکستان تک حافظ آباد میں چند ایک ہی مسلمان حکیم تھے جن میں ڈاکخانہ روڈ پر ہمارے دادا جان محترم بھی شامل تھے یاد رہے تقسیم تک حافظ آباد میں قریب سارے ڈاکٹر ، زیادہ حکیم اور وید ہندو اور سکھ تھے اور ان کے مقابلے میں اس وقت کسی مسلمان حکیم کی پریکٹس چل جانا بڑی بات تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ روپیہ پیسہ ہوتا ہی ہندوؤں کے پاس تھا اور مسلمانوں کی اکثریت کو بس اللہ کا ہی آسرا تھا کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت محنت کش طبقہ سے تعلق رکھتی تھی جن کے لئے چونی اٹھنی بڑی بات تھی دادا جان محترم بتایا کرتے تھے کہ میں اپنی کمائی ہندو اور سکھ لوگوں سے کرتا تھا اور اکثریتی مسلمانوں کو میں تقریباً مفت دوائیں دیتا تھا اور اس کے بدلے اللہ پاک مجھے اپنے ہندو اور سکھ مریضوں سے خوب اور وافر رزق دے دیتا تھا اور ان لوگوں کا میری ذات پر بہت اعتقاد اور بھروسہ تھا کیونکہ اس دور میں کئی لاعلاج مریضوں کو بھی اللہ پاک کی مقدس ذات نے میرے ہاتھ سے شفاء دی تھی ۔ ہمارے دادا جان محترم ہماری چھت تھے انہوں نے ہم لوگوں کی حافظ آباد میں کامیابیوں کی بنیاد رکھی تھی اور ان کے قیام پاکستان سے عرصہ قبل سے ہی جب سے وہ رسولنگر سے حافظ آباد آئے تھے حافظ آباد شہر اور گردونواح کے ہندو ، مسلمان اور سکھ عمائدین سے اچھے تعلقات تھے ساون پورہ، سندھواں تارڑ، دھنوئے ڈوگراں، نوتھیں، کوٹ سلیم ،ہردو بھون،کھرل چک، ساگر کھرلاں، پنڈی باورے ، پرانے اور بورے نو وغیرہ کے مسلمان زمینداروں سے بہت آچھے مراسم تھے اور ان کے قائم کردہ تعلقات آج بھی ہماری چوتھی نسل تک قائم ہیں ہمارے دادا جان محترم۔اکیلے بھائی اور تین بہنیں تھیں ۔ دادا جان محترم کی اولاد میں سب سے بڑی ہماری پھوپھو عنایت بیگم تھیں جو ملتان ہوتی تھیں ان سے چھوٹے ہمارے تایا جان محترم شیخ عاشق حسین تھے جو ہیڈ ڈرافسٹمین تھے اور ان سے چھوٹے ہمارے والد محترم شیخ ظہور حسین تھے اور ان سے چھوٹے ہمارے چچا جان محترم ڈاکٹر شیخ غلام حسن تھے اور ان سے چھوٹی ہماری پھوپھو ممتاز بیگم تھیں اور ان سے چھوٹے ہمارے چچا جان محترم ممتاز حسین اور ان سے چھوٹے اقبال حسین ہیں ہماری دادی اماں محترمہ کا نام حاکم بی بی تھا ۔ ہمارے دادا جان محترم کو ہمیشہ میں نے اپنے ترتیب دیئے ہوئے معمولات زندگی پر عمل کرتے ہوئے ہی دیکھا تھا وہ صبح اپنے مطب پر جاتے تھے پھر دوپہر کو کھانا کھانے گھر آتے تھے کھانا کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے تھے پھر اپنے مطب پر شام تک رہتے تھے شام کو اور دیگر اوقات میں اکثر ان کے احباب اور دوستوں( خلیفہ محمد یوسف پینٹر، حاجی عمر دین، چوہدری پیر محمد تارڑ، علامہ غلام محمد ذکی، حاجی معراج دین کاشمیری، سائیں اسد اللہ، چوہدری زمان بھون، میر احمد دین ،محمد رمضان غلام حسین برادران گھی والے،باباولی محمد، بابا برکت علی، میاں سلطان علی لٹی، چوہدری ہارون الرشید تھہیم ،ملک علی بہادر اعوان،چاچا طفیل ولائت برادران،سید سیدین شاہ زیدی، مہر فضل ، بابا فضل الہٰی،
عزیز علی شیخ